صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »خرده
  4. »بخش 8 - طاقت عفو در تو نیست اگر

بخش 8 - طاقت عفو در تو نیست اگر

Trifles - If you do not possess the power to forgive

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: یز

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

طاقت عفو در تو نیست اگر

خیز و با دشمنان در آ به ستیز

اگر تجھ میں معاف کر دینے کا حوصلہ نہیں؛ تو اٹھ اور دشمنوں سے برسر پیکار ہو۔

If you do not possess the power to forgive, go; get to grips with those who have wronged you.

2

سینه را کارگاه کینه بساز

سرکه در انگبین خویش مریز

مگر اپنے سینے کو کینے کی کارگاہ (فیکٹری) نہ بنا؛ (اپنی زندگی کے) شہد میں سرکہ نہ ملا۔

Do not nurse hatred in your heart. O do not make your honey sour by mixing vinegar with it.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان

خواب را مرگ سبک دان مرگ را خواب گران

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 7 - ای برادر من ترا از زندگی دادم نشان

اگلی نظم

از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

کز دم بادی زجاج شاعر ما بشکند

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ساقی سیم‌تن چه خسبی خیز

آب شادی بر آتش غم ریز

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 316

ای سنایی به گرد حران گرد

تا بیابی ز جود ایشان چیز

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 106

هر که زین پیش بود امیر سخن

از امیر سخا شدند عزیز

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 107

چرخ پرویز نیست آتش بیز

نه ممری درو نه جای گریز

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 290

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور