صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »خرده
  4. »بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ابشکند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس

کز دم بادی زجاج شاعر ما بشکند

اس کی طبع ء موشگاف کی نزاکتوں کے بارے میں نہ پوچھ، ہمارے شاعر کا شیشہ ہوا کے جھونکے سے ٹوٹ جاتا ہے۔

Do not speak to me of his sensitive, fine mind, our poet’s crystal breaks at a mere breath of wind.

2

کی تواند گفت شرح کارزار زندگی

«می پرد رنگش حبابی چون بدریا بشکند»

وہ کیسے زندگی کے کارزار کی وضاحت کر سکتا ہے، (اس کا تو یہ حال ہے کہ) 'دریا میں بلبلہ ٹوٹے تو اس کا رنگ اڑ جاتا ہے'۔

Of life’s grim war how can he ever tell the tale, when at the sight of a burst bubble he turns pale?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

طاقت عفو در تو نیست اگر

خیز و با دشمنان در آ به ستیز

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 8 - طاقت عفو در تو نیست اگر

اگلی نظم

در جهان مانند جوی کوهسار

از نشیب و هم فراز آگاه شو

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 10 - در جهان مانند جوی کوهسار

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دیده ما سیر چشمان شان دنیا بشکند

همچو جوهر نقش را آیینه ما بشکند

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2572

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور