Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس
کز دم بادی زجاج شاعر ما بشکند
اس کی طبع ء موشگاف کی نزاکتوں کے بارے میں نہ پوچھ، ہمارے شاعر کا شیشہ ہوا کے جھونکے سے ٹوٹ جاتا ہے۔
Do not speak to me of his sensitive, fine mind, our poet’s crystal breaks at a mere breath of wind.
کی تواند گفت شرح کارزار زندگی
«می پرد رنگش حبابی چون بدریا بشکند»
وہ کیسے زندگی کے کارزار کی وضاحت کر سکتا ہے، (اس کا تو یہ حال ہے کہ) 'دریا میں بلبلہ ٹوٹے تو اس کا رنگ اڑ جاتا ہے'۔
Of life’s grim war how can he ever tell the tale, when at the sight of a burst bubble he turns pale?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور