Trifles - The pearl is used to the ways of the sea
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
قافیہ: ازگردشاسیاچهداند
صنف: غزل/قصیده/قطعه
دردانه ادا شناس دریاست
از گردش آسیا چه داند؟
موتی کا دانہ دریا کی ادا کو سمجھتا ہے وہ چکی کی گردش کو کیا جانے(موتی بھی اگرچہ دانہ ہے لیکن اس کی ساری زندگی سمندر میں گزر جاتی ہے اس لیے وہ اس دانہ کی مصیبت کا اندازہ نہیں کر سکتا جو چکی کے پاٹ میں پس کر سرمہ ہو جاتا ہے ۔
The pearl is used to the ways of the sea. What can it know about the millstone that grind grain?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور