صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »خرده
  4. »بخش 2 - دردانه ادا شناس دریاست

بخش 2 - دردانه ادا شناس دریاست

Trifles - The pearl is used to the ways of the sea

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: ازگردشاسیاچهداند

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

دردانه ادا شناس دریاست

از گردش آسیا چه داند؟

موتی کا دانہ دریا کی ادا کو سمجھتا ہے وہ چکی کی گردش کو کیا جانے(موتی بھی اگرچہ دانہ ہے لیکن اس کی ساری زندگی سمندر میں گزر جاتی ہے اس لیے وہ اس دانہ کی مصیبت کا اندازہ نہیں کر سکتا جو چکی کے پاٹ میں پس کر سرمہ ہو جاتا ہے ۔

The pearl is used to the ways of the sea. What can it know about the millstone that grind grain?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

میخورد هر ذره ما پیچ و تاب

محشری در هر دم ما مضمر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 1 - میخورد هر ذره ما پیچ و تاب

اگلی نظم

کلک را ناله از تهی مغزی است

قلم سرمه را صریری نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»خرده»بخش 3 - کلک را ناله از تهی مغزی است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور