خرابات فرنگ
The Tavern of the West
دوش رفتم به تماشای خرابات فرنگ
شوخ گفتاری رندی دلم از دست ربود
میں کل رات مغرب کے میکدے کا تماشا دیکھنے چلا گیا ۔ وہاں ایک رند (یعنی نٹیشے ) کی شوخ گفتاری نے میرا دل لبھا لیا(گرویدہ بنا لیا) ۔
Last night, while I was in the tavern of the West, I was delighted by a witty thing a drinker said.
گفت این نیست کلیسا که بیابی در وی
صحبت دخترک زهره وش و نای و سرود
اس نے کہا یہ کلیسا نہیں کہ تو اس میں پائے حسین دوشیزاؤں کی محفل اور راگ رنگ کی مجلس ۔
‘This place is not a church’, said he, ‘that you should find here pretty girls and organ music and sweet songs.
این خرابات فرنگ است و ز تأثیر میش
آنچه مذموم شمارند ، نماید محمود
یہ مغرب کا میخانہ ہے اور اس کی شراب کی تاثیر سے جسے برا جانا جاتا ہے وہی اچھا دکھائی دیتا ہے ۔
This is the tavern of the West, where wine has the effect of making things that are considered bad seem good,
نیک و بد را به ترازوی دگر سنجیدیم
چشمه ئی داشت ترازوی نصاری و یهود
ہم نے نیکی اور بدی کو ایک اور ترازو میں تولا ۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی ترازو برابر نہیں رہی (پاسنگ رکھتا ہے) ۔
We have weighed good and evil on another kind of scales. The scales of the Jews and the Christians were askew.
خوب ، زشت است اگر پنجهٔ گیرات شکست
زشت ، خوب است اگر تاب و توان تو فزود
اچھی چیز بری ہے اگر وہ تیری کلائی مروڑ دے (ہر وہ نیکی جو کمزور کر دے برائی ہے) ۔ اور بری چیز اچھی ہے اگر اس سے تیری طاقت اور قوت میں اضافہ ہو (ہر وہ برائی جو تجھے طاقتور بنا دے اچھائی ہے) تو اگر غور سے دیکھے تو زندگی ریا کے سوا اور کچھ نہیں ۔ جو چیز سچائی اور اخلاص کے گروی ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
What is good in you will be bad, if you should break your fist. What is bad in you will be good, if you increase your might.
تو اگر در نگری جز به ریا نیست حیات
هر که اندر گرو صدق و صفا بود نبود
اگر تو غور سے دیکھے تو زندگی ریا کے سوا اور کچھ نہیں ، جو چیز صدق و صفا کی گروی ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
If you look carefully, you will find life is all hypocrisy. Whoever follows the path of truth and sincerity just ceases to exist.
دعوی صدق و صفا پردهٔ ناموس ریاست
پیر ما گفت مس از سیم بباید اندود
سچائی اور اخلاص کا دعویٰ منافقت کے ناموس کا پردہ ہے ۔ (مکر و فریب کے لیے نقاب کا کام بہت اچھا دے سکتی ہے) ۔
Claims of truth and sincerity are only covers for hypocrisy. Our master says that brass must have on it a silver plate.
فاش گفتم بتو اسرار نهانخانهٔ زیست
به کسی باز مگو تا که بیابی مقصود
ہمارے پیر نے کہا کہ تانبے کو چاندی سے لپیٹنا چاہیے جھوٹ پر سچائی کا ملمع کردو یعنی اپنے جھوٹ کو سچ کے پردے میں چھپا دو ۔ میں نے زندگی کے اندر کا بھید تجھ سے کھول کر بیان کر دیا اب کسی اور کو بتانا تاکہ تو مرا د پا جائے ۔
I have revealed to you the secret of success in life. Let no one know of it, if you care for success.
زمین
هر که از میکده عشق تو بویی شنود
تا زید مست زید چون برود مست رود
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 158
خنده ای زد دهنت رسته دندان بنمود
وز رگ جان گره غصه به دندان بگشود
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 269
واقف سرمد تا مدرسه عشق گشود
فرقیی مشکل چون عاشق و معشوق نبود
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 790
بخت در اول فطرت چو نباشد مسعود
مقبل آن نیست که در حال بمیرد مولود
سعدیمواعظمفرداتشمارهٔ 36
خواهی از دشمن نادان که گزندت نرسد
رفق پیش آر و مدارا و تواضع کن و جود
سعدیمواعظقطعاتشمارهٔ 107
مرغ جایی که علف بیند و چیند گردد
مرد صاحبنظر آنجا که وفا بیند و جود
سعدیمواعظقطعاتشمارهٔ 109
شرف نفس به جود است و کرامت به سجود
هر که این هر دو ندارد عدمش به که وجود
سعدیمواعظغزلیاتغزل شمارهٔ 26
احمدالله تعالی که به ارغام حسود
خیل بازآمد و خیرش به نواصی معقود
سعدیمواعظقصایدقصیدهٔ شمارهٔ 21 - در ستایش شمسالدین حسین علکانی
به خرابات شدم دوش مرا بار نبود
میزدم نعره و فریاد ز من کس نشنود
عراقیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 104
فارسی متن کا ماخذ: گنجور