صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 20 - خرابات فرنگ

بخش 20 - خرابات فرنگ

خرابات فرنگ

The Tavern of the West

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 9

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

دوش رفتم به تماشای خرابات فرنگ

شوخ گفتاری رندی دلم از دست ربود

میں کل رات مغرب کے میکدے کا تماشا دیکھنے چلا گیا ۔ وہاں ایک رند (یعنی نٹیشے ) کی شوخ گفتاری نے میرا دل لبھا لیا(گرویدہ بنا لیا) ۔

Last night, while I was in the tavern of the West, I was delighted by a witty thing a drinker said.

2

گفت این نیست کلیسا که بیابی در وی

صحبت دخترک زهره وش و نای و سرود

اس نے کہا یہ کلیسا نہیں کہ تو اس میں پائے حسین دوشیزاؤں کی محفل اور راگ رنگ کی مجلس ۔

‘This place is not a church’, said he, ‘that you should find here pretty girls and organ music and sweet songs.

3

این خرابات فرنگ است و ز تأثیر میش

آنچه مذموم شمارند ، نماید محمود

یہ مغرب کا میخانہ ہے اور اس کی شراب کی تاثیر سے جسے برا جانا جاتا ہے وہی اچھا دکھائی دیتا ہے ۔

This is the tavern of the West, where wine has the effect of making things that are considered bad seem good,

4

نیک و بد را به ترازوی دگر سنجیدیم

چشمه ئی داشت ترازوی نصاری و یهود

ہم نے نیکی اور بدی کو ایک اور ترازو میں تولا ۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی ترازو برابر نہیں رہی (پاسنگ رکھتا ہے) ۔

We have weighed good and evil on another kind of scales. The scales of the Jews and the Christians were askew.

5

خوب ، زشت است اگر پنجهٔ گیرات شکست

زشت ، خوب است اگر تاب و توان تو فزود

اچھی چیز بری ہے اگر وہ تیری کلائی مروڑ دے (ہر وہ نیکی جو کمزور کر دے برائی ہے) ۔ اور بری چیز اچھی ہے اگر اس سے تیری طاقت اور قوت میں اضافہ ہو (ہر وہ برائی جو تجھے طاقتور بنا دے اچھائی ہے) تو اگر غور سے دیکھے تو زندگی ریا کے سوا اور کچھ نہیں ۔ جو چیز سچائی اور اخلاص کے گروی ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

What is good in you will be bad, if you should break your fist. What is bad in you will be good, if you increase your might.

6

تو اگر در نگری جز به ریا نیست حیات

هر که اندر گرو صدق و صفا بود نبود

اگر تو غور سے دیکھے تو زندگی ریا کے سوا اور کچھ نہیں ، جو چیز صدق و صفا کی گروی ہو وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

If you look carefully, you will find life is all hypocrisy. Whoever follows the path of truth and sincerity just ceases to exist.

7

دعوی صدق و صفا پردهٔ ناموس ریاست

پیر ما گفت مس از سیم بباید اندود

سچائی اور اخلاص کا دعویٰ منافقت کے ناموس کا پردہ ہے ۔ (مکر و فریب کے لیے نقاب کا کام بہت اچھا دے سکتی ہے) ۔

Claims of truth and sincerity are only covers for hypocrisy. Our master says that brass must have on it a silver plate.

8

فاش گفتم بتو اسرار نهانخانهٔ زیست

به کسی باز مگو تا که بیابی مقصود

ہمارے پیر نے کہا کہ تانبے کو چاندی سے لپیٹنا چاہیے جھوٹ پر سچائی کا ملمع کردو یعنی اپنے جھوٹ کو سچ کے پردے میں چھپا دو ۔ میں نے زندگی کے اندر کا بھید تجھ سے کھول کر بیان کر دیا اب کسی اور کو بتانا تاکہ تو مرا د پا جائے ۔

I have revealed to you the secret of success in life. Let no one know of it, if you care for success.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بی پشت بود بادهٔ سر جوش زندگی

آب خضر بگیرم و در ساغر افکنم

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 19 - شعرا

اگلی نظم

مشرقی باده چشیده است ز مینای فرنگ

عجبی نیست اگر توبهٔ دیرینه شکست

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 21 - خطاب به انگلستان

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

هر که از میکده عشق تو بویی شنود

تا زید مست زید چون برود مست رود

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 158

خنده ای زد دهنت رسته دندان بنمود

وز رگ جان گره غصه به دندان بگشود

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 269

واقف سرمد تا مدرسه عشق گشود

فرقیی مشکل چون عاشق و معشوق نبود

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 790

بخت در اول فطرت چو نباشد مسعود

مقبل آن نیست که در حال بمیرد مولود

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 36

خواهی از دشمن نادان که گزندت نرسد

رفق پیش آر و مدارا و تواضع کن و جود

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 107

مرغ جایی که علف بیند و چیند گردد

مرد صاحبنظر آنجا که وفا بیند و جود

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 109

شرف نفس به جود است و کرامت به سجود

هر که این هر دو ندارد عدمش به که وجود

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 26

احمدالله تعالی که به ارغام حسود

خیل بازآمد و خیرش به نواصی معقود

سعدی»مواعظ»قصاید»قصیدهٔ شمارهٔ 21 - در ستایش شمس‌الدین حسین علکانی

به خرابات شدم دوش مرا بار نبود

می‌زدم نعره و فریاد ز من کس نشنود

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 104

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور