صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 19 - شعرا

بخش 19 - شعرا

Poets

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: رافکنم

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
برونینگ:

برونینگ

Browning

Toggle stanza 1
1

بی پشت بود بادهٔ سر جوش زندگی

آب خضر بگیرم و در ساغر افکنم

زندگی کی صاف شراب میں نشہ بڑھانے کے لیے کچھ ملا ہوا نہیں تھا ۔ میں خضر سے آب حیات لیکر ساغر میں ڈالتا ہوں ۔

There was nothing to fortify life’s effervescent wine: I took some aqua vitae from Khizr and added it.

بند 2
بایرن:

بایرن

Byron

Toggle stanza 2
2

از منت خضر نتوان کرد سینه داغ

آب از جگر بگیرم و در ساغر افکنم

خضر کا احسان اٹھا کر چھاتی پر داغ نہیں دھرا جا سکتا میں اپنے ہی جگر سے لہو لیکر ساغر میں ڈالتا ہوں ۔

Why should one be obliged to Khizr for his aqua’s loan? I poured a little of my heart’s blood into the wine-cup.

بند 3
غالب:

غالب

Ghalib

Toggle stanza 3
3

«تا باده تلخ تر شود و سینه ریش تر

بگدازم آبگینه و در ساغر افکنم»

تاکہ شراب ہو جائے اور سینہ اور زیادہ زخمی ہو ۔ میں صراحی کا شیشہ پگھلا کر ساغر میں ڈالتا ہوں ۔

To make the wine still bitterer and my chest still more sore, I melted the glass itself and added it to my wine.

بند 4
رومی:

رومی

Rumi

Toggle stanza 4
4

آمیزشی کجا گهر پاک او کجا

از تاک باده گیرم و در ساغر افکنم

کجا ملاوٹ کجا اس کی پاک اصل ، میں انگور سے شراب کھینچ کر بغیر کسی آمیزش کے پیالے میں ڈالتا ہوں ۔

How can dilutions be as good as the real stuff itself? I pressed wine out of grapes direct and filled my cup with it.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ساغرش را سحر از بادهٔ خورشید افروخت

ورنه در محفل گل لاله تهی جام آمد

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 18 - حکما

اگلی نظم

دوش رفتم به تماشای خرابات فرنگ

شوخ گفتاری رندی دلم از دست ربود

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 20 - خرابات فرنگ

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور