Poets
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
برونینگ
Browning
بی پشت بود بادهٔ سر جوش زندگی
آب خضر بگیرم و در ساغر افکنم
زندگی کی صاف شراب میں نشہ بڑھانے کے لیے کچھ ملا ہوا نہیں تھا ۔ میں خضر سے آب حیات لیکر ساغر میں ڈالتا ہوں ۔
There was nothing to fortify life’s effervescent wine: I took some aqua vitae from Khizr and added it.
بایرن
Byron
از منت خضر نتوان کرد سینه داغ
آب از جگر بگیرم و در ساغر افکنم
خضر کا احسان اٹھا کر چھاتی پر داغ نہیں دھرا جا سکتا میں اپنے ہی جگر سے لہو لیکر ساغر میں ڈالتا ہوں ۔
Why should one be obliged to Khizr for his aqua’s loan? I poured a little of my heart’s blood into the wine-cup.
غالب
Ghalib
«تا باده تلخ تر شود و سینه ریش تر
بگدازم آبگینه و در ساغر افکنم»
تاکہ شراب ہو جائے اور سینہ اور زیادہ زخمی ہو ۔ میں صراحی کا شیشہ پگھلا کر ساغر میں ڈالتا ہوں ۔
To make the wine still bitterer and my chest still more sore, I melted the glass itself and added it to my wine.
رومی
Rumi
آمیزشی کجا گهر پاک او کجا
از تاک باده گیرم و در ساغر افکنم
کجا ملاوٹ کجا اس کی پاک اصل ، میں انگور سے شراب کھینچ کر بغیر کسی آمیزش کے پیالے میں ڈالتا ہوں ۔
How can dilutions be as good as the real stuff itself? I pressed wine out of grapes direct and filled my cup with it.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور