صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 18 - حکما

بخش 18 - حکما

Philosophers

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: امیاورد

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
بند 1
لاک:

لاک

Locke

Toggle stanza 1
1

ساغرش را سحر از بادهٔ خورشید افروخت

ورنه در محفل گل لاله تهی جام آمد

اس کے ساغر کو صبح نے سورج کی شراب سے چمکایا اور نہ پھولوں کی محفل میں گل لالہ خالی پیالہ آیا تھا ۔

It was dawn that lit up the tulip’s cup with a drink from the sun; for the tulip itself bore an empty cup when it joined the company of flowers.

بند 2
کانت:

کانت

Kant

Toggle stanza 2
2

فطرتش ذوق می آینه فامی آورد

از شبستان ازل کوکب جامی آورد

اس کی فطرت آئینہ رنگ شراب کا ذوق لائی ازل کے شبستان سے جام کا ستارہ لائی ۔

By nature it had a taste for wine that is like crystal: It is from eternity’s sleeping-chamber that it brings its shining, star-like cup.

بند 3
برگسن:

برگسن

Bergson

Toggle stanza 3
3

نه مئی از ازل آورد نه جامی آورد

لاله از داغ جگر سوز دوامی آورد

نہ کوئی شراب ازل سے لایا نہ کوئی پیالہ گل لالہ جگر کے داغ سے دائمی سوز لایا ۔

It did not bring either wine or a cup from eternity: The tulip gets its eternal passion from the scar in its own heart.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بسی گذشت که آدم درین سرای کهن

مثال دانه ته سنگ آسیا بودست

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 17 - موسیولینن و قیصر ولیم

اگلی نظم

بی پشت بود بادهٔ سر جوش زندگی

آب خضر بگیرم و در ساغر افکنم

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 19 - شعرا

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور