Dialogue Between Lenin and Kaiser Wilhelm
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
صنف: چند بندی
موسیولینن
Lenin
بسی گذشت که آدم درین سرای کهن
مثال دانه ته سنگ آسیا بودست
مدتیں گزر گئیں کہ آدمی اس پرانی سرائے (دنیا) میں گندم کی طرح چکی کے پاٹ تلے رہا ہے ۔
It is long since in this old world poor man is being ground like grain between millstones.
فریب زاری و افسون قیصری خورد است
اسیر حلقهٔ دام کلیسیا بودست
زاری کا فریب اور قیصری کا دھوکا کھاتا رہا ہے وہ کلیسا کے جال میں پھنسا رہا ہے ۔
He has been duped by Kaisers and by Czars, and has been caught in the snare of the Church.
غلام گرسنه دیدی که بر درید آخر
قمیص خواجه که رنگین ز خون ما بودست
تو نے دیکھا کہ بھوکے غلام نے آخر آقا کی قمیض تارتار کر دی جو ہمارے لہو سے رنگین رہی ہے ۔
Have you not seen the hungry slave at last tear to shreds his lord’s garment, dyed red with his blood?
شرار آتش جمهور کهنه سامان سوخت
ردای پیر کلیسا قبای سلطان سوخت
عوام کی آگ کی چنگاریوں نے فرسودہ نظام جلا دیا ۔ کلیسیا کے پیر کی چادر ، بادشاہ کی قبا جلا ڈالی ۔
Democracy’s spark has burnt up robes of the Church elders and the kings.
قیصر ولیم
The Kaiser
گناه عشوه و ناز بتان چیست؟
طواف اندر سرشت برهمن هست
بتوں کے عشوہ و ناز کا کیا گناہ ہے (کوئی گناہ نہیں ) ۔ طواف تو برہمن کی گھٹی میں پڑا ہے ۔
Why blame idols for their winsome ways? It is in the Brahmin’s nature to adore.
دمادم نو خداوندان تراشد
که بیزار از خدایان کهن هست
وہ ہر دم نئے نئے خدا تراشتا ہے کیونکہ پرانے خداؤں سے بیزار ہے ۔
He keeps fashioning new idols; for he gets bored stiff with the ones he has.
ز جور رهزنان کم گو که رهرو
متاع خویش را خود رهزن هست
رہزنوں کے ظلم کی بات مت کہہ کہ مسافر خود اپنے سامان کا آپ رہزن ہے ۔
Do not tell me of the highwaymen: His own robber is the traveler here.
اگر تاج کئی جمهور پوشد
همان هنگامه ها در انجمن هست
اگر شہنشاہ کا تاج عوام پہن لیں تو بھی اس انجمن میں وہی ہاہاکار ہے (وہی ہنگامے رہیں گے ۔ عوامی لیڈر بھی وہی کام کریں گے جو بادشاہ کرتے تھے ۔ )
If you crown the common people, then you will find oppression is still there.
هوس اندر دل آدم نمیرد
همان آتش میان مرزغن هست
آدمی کے دل میں ہوس (اقتدار و دولت) نہیں مرتی اس آتش دان کے بیچ وہی آگ ہے جو تھی ۔ یہ آگ ہمیشہ جلتی رہے گی ۔
Never does greed die out of men’s hearts: in a furnace fire must always blaze.
عروس اقتدار سحر فن را
همان پیچاک زلف پر شکن هست
اقتدار کی جادوگر دلہن کی زلف پر شکن کا وہی کنڈل ہے ۔
Power’s sorceress has the same arts irrespective of the part she plays.
«نماند ناز شیرین بی خریدار
اگر خسرو نباشد کوهکن هست»
شیریں کے چونچلے (ناز و ادا) خریدار بنا نہیں رہتے اگر خسرو نہیں تو کوہکن ہے ۔
‘Shirin’s beauty never goes abegging: Khusroes or Farhads are never lacking.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور