زندگی اور عمل(جرمنی کے مشہور شاعر ہائنا کی ایک نظم سوالات کے جواب میں )
Life and Action
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)
قافیہ: یستم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
ایک سنسان ساحل کہنے لگا اگرچہ میں بڑی دیر زندہ رہا ہوں مگر افسوس مجھے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ میں کون ہوں کیا ہوں ۔
‘I have lived a long, long while’, said a fallen shore; ‘What I am know as ill as I knew of yore.’
ایک متوالی لہر تیزی سے بڑھی اور بولی اگر چلتی رہوں تو میں ہوں اگر نہ چلوں تو میں نہیں ہوں (یعنی زندگی حرکت اور جدوجہد کا نام ہے) ۔
Then swiftly advanced wave from the Sea upshot; ‘If I roll, I am’, it said; ‘if I rest, I am not.’