تراجم
یہ صفحہ صرف ایم ہادی حسین کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
Unfamiliar with loyalty, alien in its ways —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 64
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ —
Ask not of love or its enchanting guise —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 65
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو —
Do not despair, O newly bloomed bud so dear —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 66
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں —
I'm a companion to the birds in the garden's grace —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 69
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے —
Does this valley of flowers appear as it truly is? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 70
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں —
You're the sun, and I your planet, circling in light —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 71
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے —
His image in the eyes, oh, what a splendid sight —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 72
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے —
A girdled infidel, my brain adores idols it crafts —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 73
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے —
The cypress, a free-willed slave to the Divine —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 74
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —
From one star to another, hundreds of worlds unfold —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 75
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
Do not bind your own steps with destiny's chain —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 76
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے —
Our restless breath is a wave from His endless sea —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 79
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا —
In Your heart, a solitary pain did twist and twine —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 80
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —
Neither Afghan, Turk, nor Tatar are we —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 83
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل —
My heart, my heart, oh heart of mine —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 85
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —
One devoid of hidden yearnings (for his Lord) owns but a shell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 87
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —
Beneath the veil, in all Your majestic splendor —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 89
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
Forget the goal, be steadfast on the endless quest —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 90
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ —
Come, O love, O the secret of our heart —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 91
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —
Poetry summons pain and sorrow, yet the ache is sweet —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 92
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں —
I ride not on a steed of noble breed —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 93
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن —
If you desire life's perfection, listen well —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 94
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں —
Am I the wine, or am I the cup that holds? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 97
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے —
You say our bird (soul) is beneath a bodily snare confined —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 98
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ —
How kindles desire in the chambers of our hearts? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 99
دل ایسا مسافر ہے جو منزل کو پسند نہیں کرتا —
The wandering heart finds no solace at home —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 104
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —
Come, behold nature's grandeur with keen eyes —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 105
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے —
Within the realm of water and clay, I've chosen retreat —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 106
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —
No soul knows whence the Khudi first came —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 107
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا —
From the soil of the narcissus field, a bud arose —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 110
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے —
The Rose and I one problem have to tell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 113
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں —
The self-sown tulip’s temper I know well —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 114
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —
The world is a symphony of aspirations and desires —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 115
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے —
My heart, restless with longing's fervent plea —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 116
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے —
Our endurance springs from an unending blaze —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 117
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو —
O preacher, don't frown upon the Brahmin's quest —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 118
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں —
Though philosophers have shattered countless forms they've sought —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 119
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں —
From my handful of clay, many worlds arise —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 120
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں —
For thousands of years, with nature I did dwell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 121
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —
I spread my wings across eternity's vast expanse —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 122
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —
I take pride in myself, a beggar without need —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 124
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے —
If you know the power within your core —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 125
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں —
Why worry, life's breath is not the heart's sole lease —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 126
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو —
From me, tell the Sufis pure of heart —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 128
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر —
Like the narcissus, do not pass the garden without gaze —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 129
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں —
An idol I carved in my own form’s grace —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 130
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا —
Thus spoke the new-sprung blossom to the dew: —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 131
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ —
Consider the earth as the sky's confidant—
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 132
جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں —
The secret of creation, none but you can claim —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 133
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے —
The earth is but the dust of our tavern's door —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 134