صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 122

رباعی شمارهٔ 122

میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے

I spread my wings across eternity's vast expanse

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ودم

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —

میں آب و گل کے بندھن سے آزاد تھا۔

I spread my wings across eternity's vast expanse —

Freed from the bonds of water and clay's dance.

2

آپ کی نظر میں میری قیمت گراں تھی —

اسی لیے آپ مجھے بازار وجود میں لے آئے۔

In your eyes, my worth was high, immense —

Thus, you brought me to existence's market, hence.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هزاران سال با فطرت نشستم

به او پیوستم و از خود گسستم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 121

اگلی نظم

درونم جلوهٔ افکار این چیست؟

برون من همه اسرار این چیست؟

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 123

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00