صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 121

رباعی شمارهٔ 121

میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں

For thousands of years, with nature I did dwell

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ستم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں —

میں نے اپنے ساتھ تعلق منقطع کیا اور اس کے ساتھ تعلق بنایا۔

For thousands of years, with nature I did dwell —

I severed ties with myself, in her embrace I fell.

2

لیکن میری سرگزشت ان دو حرفوں میں آ جاتی ہے —

میں نے (تصوّرات کے) بت تراشے ، ان کی پوجا کی، پھر انہیں توڑ دیا۔

Yet my story boils down to these two lines —

I carved idols, worshipped, then broke their confines.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

جهانها روید از مشت گل من

بیا سرمایه گیر از حاصل من

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 120

اگلی نظم

به پهنای ازل پر می گشودم

ز بند آب و گل بیگانه بودم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 122

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

لبالب کن قدح ساقی که مستم

به می ده جملگی اسباب هستم

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1294

چه دیدم خواب شب کامروز مستم

چو مجنونان ز بند عقل جستم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1496

به جان جمله مستان که مستم

بگیر ای دلبر عیار دستم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1497

درآمد دوش ترک نیم مستم

به ترکی برد دین و دل ز دستم

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 478

مرا قلاش می‌خوانند، هستم

من از دردی کشان نیم مستم

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 481

تراشیدم صنم بر صورت خویش

به شکل خود خدا را نقش بستم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 130

من از بود و نبود خود خموشم

اگر گویم که هستم خود پرستم

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 54

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00