تراجم
یہ صفحہ صرف ایم ہادی حسین کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
آئینے کی طرح دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو ۔ غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے ۔ نہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ کسی کو دل میں جگہ دے ۔
Do not be like a mirror, which is taken up with others’ beauty. Cast away the thought of others from your mind.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 35
عشق کی دنیا نہ سرداری جانتی ہے نہ بادشاہی یہی کافی ہے کہ خدمت کے آداب کی خبر رکھتی ہے (جو سردار ہوتا ہے وہ سب کا خادم ہوتا ہے) ۔
No lordship and no mastership does the world of Love know. It is enough that it knows how to serve.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 36
کوئی امیر نہیں جو غلام کی طرح اس کا بندہ نہ ہو کوئی غلام نہیں جو امیر کی طرح اس کا خریدار نہ ہو (ہر شخص حق تعالیٰ سے ملنے کا تمنائی ہے) ۔
There is no master who does not adore Him like a slave. There is no slave who, if he were a master, would not bid for Him.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 37
(بہار کا موسم ہے ) آ جا کہ دیوانی بلبل گانے میں مگن ہے (نغمہ الاپ رہی ہے ) گل لالہ دلہن کی دلہن سراپا کرشمہ و ناز ہے (ناز و ادا بنی ہوئی ہے) ۔
Come, for the love-mad nightingale is busy singing songs. The tulip-bride is all bewitchery and grace.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 38
ہم مٹی ہیں مگر ستارے کے طرح تیز رفتار ہیں (ہماری روح ستاروں کی طرح سیار ہے) ۔ ایک بے کراں نیلے سمندر میں کنارہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔
We are mere dust, but planet-like we swiftly move, and seek the shore of this blue sea.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 39
میرے اشک خون سے عرب سب کا سب لالہ زار بن جائے ۔ مرجھائے ہوئے عجم کو میری سانس بہار ثابت ہو ۔
O may Arabia become a tulip-field, thanks to my tears of blood. May Ajam, which has lost its fragrance, find a new spring in my breath!
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 40
تیری نظر ساری کی ساری خطا ہے اور عقل بھول (جو اس کی مدد سے خدا کو نہیں پا سکتا) کلیم اللہ ایسی طلب کے بغیر تو (منزل مقصود تک ) نہیں پہنچے گا ۔ اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کر جو حضرت موسیٰ کے دل میں موجزن تھا ۔
Your seeing is all error, your wisdom all defect. You never will get anywhere except through revelation.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 41
نہیں ہے کوئی بلانوش جو تیری شراب سے مست نہ ہو (اے محبوب! دنیا میں کون سا انسان ہے جو تیری محبت کی شراب سے مست نہیں ہے) ۔ نہیں کوئی شیریں سخن جو تیرے ہونٹوں کا متوالہ نہ ہو ۔
There is no breaker of wine-jars not merrily drunk with your wine. There is no sweet-tongued poet who has not sucked rapture at your ruby-tinted lips.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 42
اگرچہ اس کے سر پر کوئی تاج اور کلاہ نہیں ہے مگر تیری گلی کا فقیر کسی بادشاہ سے کم نہیں ۔
Although he does not wear a crown or diadem, the beggar in Your street is no less than a king.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 43
میرا من موجی عشق اپنی آغوش میں شعلہ لیے ہوئے ہے ۔ میری بانچھ عقل میں ایک چنگاری بھی نہیں چھوٹتی ۔
My love in its abandon has a live flame in its arms. My sterile wisdom cannot raise a single spark.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 44
تو نے نئے نئے بت تراش لیے تجھ پر افسوس ہے ۔ اپنا اندر نہ کریدا حیف ہے تجھ پر ۔
O you have carved new images, Alas! You have not dug into your inner self, Alas!
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 45
نقشِ فرنگ ۔ پیام
A Message to the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 1 - پیام
An Assemblage in the Other World
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 5 - صحبت رفتگان (در عالم بالا)
Nietzsche
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 6 - نیچه
Einstein
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 7 - حکیم اینشتین
Byron
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 8 - بایرن
Jalal and Hegel
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 10 - جلال و هگل
مرد مزدور
Dialogue Between Auguste Comte and the Labourer
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 12 - محاوره ما بین حکیم فرانسوی اوگوست کنت و مرد مزدور
Hegel
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 13 - هگل
The Wine-Shop of the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 16 - میخانهٔ فرنگ
Dialogue Between Lenin and Kaiser Wilhelm
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 17 - موسیولینن و قیصر ولیم
Poets
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 19 - شعرا
خرابات فرنگ
The Tavern of the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 20 - خرابات فرنگ
Division Between the Capitalist and the Labourer
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 22 - قسمتنامهٔ سرمایهدار و مزدور
The Labourer’s Song
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 23 - نوای مزدور
Trifles - The pearl is used to the ways of the sea
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 2 - دردانه ادا شناس دریاست
Trifles - The reed-pen, being hollow, makes a noise
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 3 - کلک را ناله از تهی مغزی است
Trifles - Sweet is the time of Spring
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 4 - گل گفت که عیش نو بهاری خوشتر
Trifles - Three things make your vision better
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 6 - چشم را بینائی افزاید سه چیز
Trifles - If you do not possess the power to forgive
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 8 - طاقت عفو در تو نیست اگر
Trifles - Do not speak to me of his sensitive, fine mind
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 9 - از نزاکتهای طبع موشکاف او مپرس
Trifles - In this world either be a hill-stream
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 10 - در جهان مانند جوی کوهسار
Trifles - O you who plucked a rose
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 11 - ایکه گل چیدی منال از نیش خار
Trifles - Do not apply a hair-dye
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 12 - مزن وسمه بر ریش و ابروی خویش
Trifles - Love has no use for those who do not dare
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 13 - ندارد کار با دون همتان عشق
Trifles - The poet’s product is not saleable
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست
Trifles - How nice a thing it were
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 15 - چه خوش بودی اگر مرد نکویی
Trifles - I am one who has walked around the Harem
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 16 - منم که طوف حرم کرده ام بتی به کنار