صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 124

رباعی شمارهٔ 124

میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے

I take pride in myself, a beggar without need

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ازم

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —

تڑپنا، جلنا، گداز ہونا، نے نوازی کرنا (یہ میرا کام ہے)۔

I take pride in myself, a beggar without need —

I tremble, I burn, I melt, and on the reed I play indeed.

2

میں اپنے (آتشیں ) نغموں سے تجھے آگ میں ڈال دیتا ہوں —

پھر تجھے آئینے میں تبدیل کرتا ہوں کیونکہ میں سکندر فطرت ہوں۔

With my fiery tunes, I set you ablaze —

Alexander in nature, transforming hearts to mirrors in my ways.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

درونم جلوهٔ افکار این چیست؟

برون من همه اسرار این چیست؟

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 123

اگلی نظم

اگر آگاهی از کیف و کم خویش

یمی تعمیر کن از شبنم خویش

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 125

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00