صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 89

رباعی شمارهٔ 89

اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں

Beneath the veil, in all Your majestic splendor

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ابی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —

(شاید) ہماری شوق بھری نگاہوں کی تاب نہیں لاسکتے ۔

Beneath the veil, in all Your majestic splendor —

Our eager looks, it seems, You cannot weather.

2

(آپ کی محبت) ہمارے خون کے اندر شراب کی مستی کی مانند سرایت کیے ہوئے ہے —

لیکن پھر بھی آپ بیگانہ خو ہیں اور بڑی دیر سے ملتے ہیں۔

You surge within our blood like wine's deep haze —

Yet remain a stranger, found in the rarest ways.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چه پرسی از کجایم چیستم من؟

به خود پیچیده‌ام تا زیستم من

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 88

اگلی نظم

دل از منزل تهی کن پا بره دار

نگه را پاک مثل مهر و مه دار

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 90

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

حکیمی را پرسیدند که آدمیزاد کی به خوردن شتابد؟ گفت: توانگر هرگاه گرسنه شود و درویش هرگاه که بیابد.

بخور چندانکه ننهد خانه تن

جامی»بهارستان»روضهٔ دوم (در ذکر حکمت حکما)»بخش 8

بخوردم از کف دلبر شرابی

شدم معمور و در صورت خرابی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2645

سبک بنواز ای مطرب ربابی

بگردان زوتر ای ساقی شرابی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2676

چنان گشتم ز مستی و خرابی

که خاکی را نمی‌دانم ز آبی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2713

که دست تشنه می‌گیرد به آبی؟

خداوندان فضل، آخَر ثوابی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 520

درآمد از در دل چون خرابی

ز می بر آتش جانم زد آبی

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 750

کرا جوئی چرا در پیچ و تابی

که او پیداست تو زیر نقابی

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 81

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00