صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 88

رباعی شمارهٔ 88

تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟

The Tulip of Sinai - 88

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یستممن

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —

میں اپنے گرد گھومتا ہوں تاکہ زندہ رہ سکوں ۔

O ask not what I am, or whence came I: ’Tis self-involvement I am living by:

2

زندگی کے اس سمندر میں ایک بے چین موج کی طرح ہوں —

اگر میں اپنے آپ سے وابستہ نہ رہوں تو میری ہستی ختم ہوجاتی ہے۔

Within this sea I am a restless wave, And when I am no more involved, I die.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کسی کو درد پنهانی ندارد

تنی دارد ولی جانی ندارد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 87

اگلی نظم

به چندین جلوه در زیر نقابی

نگاه شوق ما را بر نتابی

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 89

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00