تراجم
یہ صفحہ صرف مخدوم حسان لاهوری کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے —
Our world, merely a fleeting notion —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 101
کیسے اے آسمان پر گردش کرنے والے آفتاب —
Being so distant, heaven-circling sun, what manner to my vision dost thou come?
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 102
اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا —
Carve your own path with your axe's strike —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 103
دل ایسا مسافر ہے جو منزل کو پسند نہیں کرتا —
The wandering heart finds no solace at home —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 104
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —
Come, behold nature's grandeur with keen eyes —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 105
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے —
Within the realm of water and clay, I've chosen retreat —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 106
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —
No soul knows whence the Khudi first came —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 107
اے دل! حیات کا راز کلی سے سمجھ —
Heart, in the rosebud view Life’s mystery! Truth in contingent there unveiled is shewn;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 108
اللہ تعالیٰ کا نور باغ و صحرا میں پھیلا ہوا ہے —
Allah's light spreads through gardens and the desert's expanse —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 109
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا —
From the soil of the narcissus field, a bud arose —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 110
جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا —
The world, that findeth in itself no stay, sought in the street of yearning for a way:
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 111
جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے —
Think not I grieve to die: The riddle of body and soul I have read plain.
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 112
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے —
The Rose and I one problem have to tell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 113
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں —
The self-sown tulip’s temper I know well —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 114
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —
The world is a symphony of aspirations and desires —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 115
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے —
My heart, restless with longing's fervent plea —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 116
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے —
Our endurance springs from an unending blaze —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 117
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو —
O preacher, don't frown upon the Brahmin's quest —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 118
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں —
Though philosophers have shattered countless forms they've sought —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 119
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں —
From my handful of clay, many worlds arise —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 120
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں —
For thousands of years, with nature I did dwell —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 121
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —
I spread my wings across eternity's vast expanse —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 122
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟ —
Inside me is such a play of ideas, what does this mean? —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 123
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —
I take pride in myself, a beggar without need —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 124
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے —
If you know the power within your core —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 125
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں —
Why worry, life's breath is not the heart's sole lease —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 126
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے —
Heart, while thou sittest in the breast of me; better my rug, than sovereign dignity:
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 127
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو —
From me, tell the Sufis pure of heart —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 128
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر —
Like the narcissus, do not pass the garden without gaze —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 129
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں —
An idol I carved in my own form’s grace —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 130
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا —
Thus spoke the new-sprung blossom to the dew: —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 131
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ —
Consider the earth as the sky's confidant—
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 132
جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں —
The secret of creation, none but you can claim —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 133
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے —
The earth is but the dust of our tavern's door —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 134
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے —
Alexander and his flag and sword are gone —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 135
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا —
You stole my heart from its open chest —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 136
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں —
From before me, the world of color and scent did flee —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 137
میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں —
I do not know the instrument or key —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 138
میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی —
In the great throng so rapturous I did play, I struck the spark of Life out of their clay;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 139
عجم میرے نغموں سے جوان ہو گیا —
Ajam by my melodies grew young anew —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 140
میرے نغمے سے عجم کے دل میں آگ بھڑک اٹھی ہے —
My song ignites a fire in Ajam’s heart —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 141
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے —
From my restless soul, I’ve unleashed a blaze —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 142
مجھے صبح کی تازہ ہوا کی مانند آزاد رو بنایا گیا ہے —
I've been made to roam like the morning breeze —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 143
عقل ایک معمولی کپڑے کو اطلس بنا دیتی ہے —
Mind turns coarse cloth to golden thread —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 144
میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں —
From the bough of desire, I've plucked the fruit —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 145
میرا تخیل جو بہشت سے پھول چنتا ہے —
My imagination, which gathers flowers from paradise —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 146
عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں —
Persia is a sea with no visible shore —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 147
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں —
Say not the world's affairs are weak and frail —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 148
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے —
You flee from the Western masters in dismay —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 149
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟ —
How long will you wear the tattered robe of life —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 150