صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 101

رباعی شمارهٔ 101

ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے

Our world, merely a fleeting notion

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اماست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، مستنصر میر
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے —

جو صبح وشام کی تبدیلی (زمان) کا اسیر ہے۔

Our world, merely a fleeting notion —

Bound to the cycles of night and day's motion.

2

قضا کی سان اسے ہموار کرتی ہے —

ورنہ ابھی تک یہ مٹی کا پیکر (جہان) نامکمل ہے۔

Smoothed by fate's relentless abrasion —

Yet this clay-formed world still lacks completion.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چو در جنت خرامیدم پس از مرگ

به چشمم این زمین و آسمان بود

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 100

اگلی نظم

چسان ای آفتاب آسمان گرد

باین دوری به چشم من در آئی؟

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 102

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

اگر می نیست جمعیت‌کدام است

کمند وحدت اینجا دور جام است

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 528

هلال عید جستن کار عام است

هلال عید خاصان دور جام است

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 141

مسافر چون بود، رهرو کدام است

که را گویم که او مردِ تمام است

شیخ محمود شبستری»گلشن راز»بخش 16 - سوال از احوال سالک و نشانهای مرد کامل

رَه میخانه و مسجد کدام است

که هر دو بر مَنِ مِسکین حرام است

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 76

دوام ما ز سوز ناتمام است

چو ماهی جز تپش بر ما حرام است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 117

مرا فرمود پیر نکته دانی

هر امروز تو از فردا پیام است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 52

تو گوئی طایر ما زیر دام است

پریدن بر پر و بالش حرام است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 98

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00