صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 139

رباعی شمارهٔ 139

میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی

The Tulip of Sinai - 139

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: لزدممن

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان
انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی —

اور اس سے مٹی (خاکی انسان) پر زندگی کا شرر ڈالا۔

In the great throng so rapturous I did play, I struck the spark of Life out of their clay;

2

میں نے دل کو عقل کے نور سے روشنی دی —

اور عقل کے لیے دل کو معیار بنایا۔

I lit the heart with the mind’s radiance, and probed the mind against the heart’s assay.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا از پردهٔ ساز آگهی نیست

ولی دانم نوای زندگی چیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 138

اگلی نظم

عجم از نغمه های من جوان شد

ز سودایم متاع او گران شد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 140

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00