صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 142

رباعی شمارهٔ 142

میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے

From my restless soul, I’ve unleashed a blaze

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ادم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے —

میں نے مشرق کے سینے میں نیا دل رکھ دیا ہے۔

From my restless soul, I’ve unleashed a blaze —

I’ve placed a new heart in the East’s embrace.

2

سرزمینِ مشرق کی خاک، میرے نالے سے شعلہ زار بن گئی ہے —

میں اس کے ضمیر پر بجلی کی مانند گرا ہوں۔

The soil of the East, aflame with my lament's spark —

Upon its conscience, I’ve struck like a lightning arc.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عجم از نغمه ام آتش بجان است

صدای من درای کاروان است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 141

اگلی نظم

مرا مثل نسیم آواره کردند

دلم مانند گل صد پاره کردند

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 143

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

منم فتنه هزاران فتنه زادم

به من بنگر که داد فتنه دادم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1501

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00