تراجم
یہ صفحہ صرف مخدوم حسان لاهوری کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
پھولوں کے درمیان اپنا آشیانہ بنا —
Nestle among the blooms, where flowers reside —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 151
مجھے اپنی جان کی قسم! کہ روح ہی نے تن کو پیدا کیا —
By my soul, which shaped the body's guise —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 152
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی —
From the soil of a grave, a whisper reached my ear —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 153
اس مشت غبار (انسان) سے نا امید نہ ہو —
Despair not in this handful of dust (Man), though it seems frail —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 154
بے شک یہ جہانِ رنگ بو اس قابل ہے کہ اسے سمجھا جائے —
The world of hue and fragrance is yours to discern —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 155
تو کہتا ہے کہ میں ہوں اور خدا نہیں ہے —
You claim that I exist, and God does not preside —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 156
میرا دستر خوان مرغ کے کباب سے خالی ہے —
I have no roasted fowl on which to sup; no mirror-shining wine is in my cup;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 157
میرے سوز سے مسلمان کی رگوں میں خون تڑپ رہا ہے —
The Muslim's veins have throbbed with my fire —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 158
لا مکاں کو الفاظ میں محدود نہیں کیا جا سکتا —
The boundless can't be captured in mere phrase —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 159
ہر دل میں عشق ننے رنگ سے ظاہر ہوتا ہے —
Love appears in each heart with hues anew —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 160
ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا —
Still bound by water and clay's constraint —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 161
ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے —
The passion for words has bled my core —
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 162
بالاخر اقبال نے عقل چالاک کو چھوڑ دیا —
At last from subtle reason he has fled; His self-willed heart knew passion, and it bled;
علامہ اقبال » پیام مشرق » رباعی شمارهٔ 163