صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 161

رباعی شمارهٔ 161

ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا

Still bound by water and clay's constraint

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انیممن

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا —

تو کہتا ہے کہ میں رومی ہوں، میں افغانی ہوں۔

Still bound by water and clay's constraint —

You call yourself Rumi, and Afghan by claim.

2

میں پہلے بے رنگ و بو (محض انسان) ہوں —

اس کے بعد ہندی یا تورانی ہوں۔

I am the primordial Adam, without hue or scent —

Then I became Indian and Turanian, as the ages went.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بهر دل عشق رنگ تازه بر کرد

گهی با سنگ گه با شیشه سر کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 160

اگلی نظم

مرا ذوق سخن خون در جگر کرد

غبار راه را مشت شرر کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 162

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00