صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 155

رباعی شمارهٔ 155

بے شک یہ جہانِ رنگ بو اس قابل ہے کہ اسے سمجھا جائے

The world of hue and fragrance is yours to discern

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یدنیهست

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

بے شک یہ جہانِ رنگ بو اس قابل ہے کہ اسے سمجھا جائے —

اس وادی میں بہت سے ایسے پھول ہیں جو اس قابل ہیں کہ انہیں چن لیا جائے۔

The world of hue and fragrance is yours to discern —

In this valley, many blossoms for you to earn.

2

لیکن تجھے اپنے اندرون سے آنکھ بند نہیں کرنی چاہیے —

تیرے اندر اور بھی قابلِ دید چیز موجود ہے۔

Yet close not the eye from within your core —

For within you lies a wonder to explore.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مشو نومید ازین مشت غباری

پریشان جلوهٔ ناپایداری

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 154

اگلی نظم

تو می گوئی که من هستم خدا نیست

جهان آب و گل را انتها نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 156

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00