وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔
The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 2
چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔
Moon and star, travelling together on the road of desire, are measuring graces and understanding gestures and are possessed of insight.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 2
اقبال اس شعر میں ربِ ذوالجلال سے عرض کرتے ہیں کہ غزل گوئی کا وہ انداز اور سُرتال کا وہ اسلوب جو کبھی مسلم قوم میں موجود تھا اُسے پھر سے زندہ کر دے ۔ افسردہ اور غم زدہ دلوں کو مسرتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے کوئی شگفتہ کلام لے کر آ ۔ تا کہ مسلمانوں کی زندگی میں پھر سے عروج کی حرارت پیدا ہو جائے ۔
O bring me back the singing, the airs of long ago; bring back the sweet, sad music to set cold hearts aglow.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 3
لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔
Thou canst pass, like morning’s breeze, deep into the anemones, with a single breath disclose the locked secrets of the rose.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 3
(اے انسان) اگر تو محبت کے سمندر میں رہتے ہوئے ساحل کی تمنا کر رہا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تو ہزاروں شعلے دے کر ایک چنگاری حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
If you seek a shore in the sea of love, you ask a thousand flames to become one tongue.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 4
یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔
Time is the winged messenger of the Heart’s Desire; wondrous herald! Tidings fair is his life entire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 5
میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔
Of the Friend’s ingenuous wit I can relate no more: By my pillow He did sit, and spoke upon the cure!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 6
میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔
I am the slave of each living heart whose love is pure, refined; not cloistered monks who dwell apart, their hearts to none resigned.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 8
(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔
Drunk with self hood like a wave plunge into the stormy lave; who commanded thee to sit with thy skirts about thy feet?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 11
مجھے موت و حیات کی کشمکش سے میرا مقامِ رضا باہر نکال لایا ۔ میرے اس مقام رضا نے میرے کیسے کیسے مسائل حل کر دیے ہیں ۔
From life and being’s twisted skein let me be free; in resignation is to gain true liberty.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 14
ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔
Greed is acting still his play this world to dominate; what new turbulence, I pray, behind Heaven’s veil doth wait?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 15
فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔
Although the Angel dwells beyond the talisman of the skies, yet on this hand of dust in fond affection rest his eyes.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 16
میرا محبوب گھوڑے پر سوا ہو کر راستہ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والے عشاق پر نظر ڈالے بغیر گزر رہا ہے ۔ اے دوستو! مجھ تھام لو کہ میرا دل اب میرے قابو میں نہیں رہا (شراب عشق کے باعث مجھ پر نشہ طاری ہو رہا ہے) ۔
With a glance at us who sit by the way He goes riding by: Conceive, if Thou canst, my soul’s dismay sore distraught am I.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 17
وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔
Where is the Arab, to revive the old night-revelry, and where the Persian, to bring alive the love-lute’s minstrelsy?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 17
ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔
Our world is dusty clay trampled upon the way; I do not think our breath returneth out of death.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 20
میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔
My mind awhile was gone about the heavens to pace, high on the back of the moon, fast in the stars’ embrace.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 22
میرے میکدے کی شراب میں ایرانی افکار و خیالات نہیں پائے جاتے ۔ میری اس عجمی صراحی یعنی فارسی شاعری میں جو شراب ہے وہ میرے جگر کا لہو ہے ( میں نے یہ خیالات کسی سے مستعار نہیں لیے) ۔
No Jamshid’s memory, the wine that fioweth in this inn of mine, it is the pressing of my soul that sparkleth in my Persian bowl.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 24
اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔
In the heart of the birds, that range this garden, is ever change; ‘Tis one with the rose at breast, an other within the nest.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 28
ابھی تک راہِ طلب میں میرا بوجھ کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے ۔ مطلب یہ کہ دل میں طلب تو ہے لیکن سامانِ سفر موجود نہیں ۔ کیونکہ میں تو کارواں ، سامانِ سفر اور منزل کے تصورات میں ہی الجھا ہوا ہوں ۔ حالانکہ منزلِ عشق کے لیے مادی اسباب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔
Upon the road of high desire my load yet lieth in the mire, because my heart would still engage with trappings, caravan, and stage.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 32
اس دنیا کی خوشی اور خاموشی کی پرواہ کیے بغیر زندہ دلی سے وقت گزارے (زندگی کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرے) اور تیرے راستے میں جو چیز بھی آئے اس سے مسکراتے ہوئے گزر جا ۔
Whether the world be foul or fair, with a smile fare on; forth from the nest, the cage, the snare, the bower, be gone!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 32
آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔
Come! The Asiatic man has created a new plan: Go not, pilgrimage to make to the idol that he brake.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 42
میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔
I have never discovered well law’s way, and the wont thereof, but know him an infidel who denieth the power of Love.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 46
تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔
What man art thou, and where thy home? In the blue skies the stars have opened, to see thee come, a thousand eyes!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 50
شہرِ عشق میں کہ جہاں کی مٹی درد آشنا ہے اس کے ذرے ذرے میں پاک جان انوار الہٰی کو دیکھا جا سکتا ہے (عاشق کے رگ و پے میں سوزِ عشق پایا جاتا ہے) ۔
In the abode of passion, where the dust is fraught with pain, shineth in every atom there pure spirit without stain.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 51
میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔
One by one we count our breath on the narrow road to death; like a raging sea we roar as we walk along the shore.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 53
قلندر جو کہ اپنے خاکی جسم اور مادی جہان کی تسخیر میں مصروف رہتے ہیں وہ اگرچہ بوریا نشین ہوتے ہیں پھر بھی بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔ بادشاہوں کے تخت ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔
Qalandars, who to their sway water strive to win and clay, from the monarch tribute bear though the beggar’s robe they wear.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 53
میں دونوں ہاتھوں سے چلانے والی تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے بے نیام کر دیا (قدرت نے باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بے نیام کیا ہے) اور مجھے سان پر چڑھا کر زمانے پر چلا دیا ۔
A double-handled sword am I laid naked by the circling sky; fortune hath sharpened me in Space, and whetted me upon Time’s face.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 54
قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔
Soft my breath doth pass soft as April airs; Jasmine-sweet the grass springeth from my tears.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 58
ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔
Leave him who never won to sight, and bears report alone; who makes long speech, but the delight of vision gives to none.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 59