باب
شہرِ عشق میں کہ جہاں کی مٹی درد آشنا ہے اس کے ذرے ذرے میں پاک جان انوار الہٰی کو دیکھا جا سکتا ہے (عاشق کے رگ و پے میں سوزِ عشق پایا جاتا ہے) ۔
In the abode of passion, where the dust is fraught with pain, shineth in every atom there pure spirit without stain.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 51
پرانی شراب جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے اور جوان معشوق اہل نظر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اللہ کے ولیوں کی نظر میں حور اور جنت کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ان باتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں ) ۔
The young beloved, the ancient wine, the maids of Paradise; these joys men reckon rare and fine charm not the truly wise.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 52
قلندر جو کہ اپنے خاکی جسم اور مادی جہان کی تسخیر میں مصروف رہتے ہیں وہ اگرچہ بوریا نشین ہوتے ہیں پھر بھی بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔ بادشاہوں کے تخت ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔
Qalandars, who to their sway water strive to win and clay, from the monarch tribute bear though the beggar’s robe they wear.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 53
میں دونوں ہاتھوں سے چلانے والی تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے بے نیام کر دیا (قدرت نے باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بے نیام کیا ہے) اور مجھے سان پر چڑھا کر زمانے پر چلا دیا ۔
A double-handled sword am I laid naked by the circling sky; fortune hath sharpened me in Space, and whetted me upon Time’s face.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 54
میں ذرے کو چنگاری کی طرح تن گرم کرنے کا طریقہ دیتا ہوں ۔ اور اس بہانے میں دراصل اسے اڑنے والے پر عطا کرتا ہوں ۔ میرے کلام میں بے سوز شخص میں گرمیَ عشق پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور گرمیَ عشق اسے آسمان کی بلندیوں کی طرف جا نے کے طریقے بتاتی ہے ۔
Each atom’s body like a spark I set a quivering, each atom quivers through the dark and soars as on a wing.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 55
خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔
Ever to be about with men proveth the self doth not attain; to friends be thou a stranger, then, who art familiar with pain.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 56
میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔
Like a tulip’s flame I burn in your presence as I turn; by my life, and yours, I swear youth of Persia ever fair!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 57
قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔
Soft my breath doth pass soft as April airs; Jasmine-sweet the grass springeth from my tears.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 58
ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔
Leave him who never won to sight, and bears report alone; who makes long speech, but the delight of vision gives to none.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 59
اس صحرا (مسلمانوں ) میں شاید کسی قافلے کا گزر ہوا ہے بہت مدت بعد میں نے ساربانوں کے گیت سنے ہیں ۔ قوم کی اصلاح کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔
It chanced within the desert nigh a caravan was passing by, and presently there reached my ear the leader’s carol, loud and clear.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 60
اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی امید اہلِ یورپ سے رکھتا ہے ۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لیے نہیں جلتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ (جس طرح شکاری اپنے شکار پر رحم نہیں کھاتا اسی طرح اہلِ یورپ بھی اپنی سنگدلی کی بدولت محکوم اقوام پر رحم نہیں کھاتے ۔ اس لیے اہل یورپ سے محکوم لوگوں کو رحم کی امید نہیں رکھنی چاہیے) ۔
Fool! Is there then such hope in thee of winning Europe’s sympathy? The falcon grieves not overmuch about the bird that’s in his clutch.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 61
مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔
Eschew the West, and do not be bewitched by Europe’s wizardry; not worth barley, in my view, is all her ancient and her new.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 62
یہ جہان جو رنگ اور خوشبووَں سے بھرپور ہے ۔ لیکن تو اس جہان رنگ و بو کو ایک راز کہتا ہے ایک دفعہ خود کو اس کے تاروں پر لگا تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو مضراب ہے اور یہ جہان ایک ساز ہے ۔ تیرے مضراب کے بغیر سازِ جہاں میں نغمگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔
A secret ’tis, ’tis evident (Thou sayst) this world of hue and scent: Go, strike thyself upon its wire – Thou art the plectrum, it the lyre.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 63
محبوب کی جدائی کے زخموں سے دل کا چمن آباد ہے ۔ اے لالہ صحرائی میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں (تجھے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہوں ) ۔
This brand of grief, His love apart, hath sown a garden in my heart; O desert-flame anemone, I have a word to say to thee!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 64
میں نے معرفت کی نگاہ سے لالہ کے پھول کے اندر دیکھا تو مجھے وہ تمام پھول ذوق و شوق سے لبریز اور آہ و نالہ دکھائی دیا ۔
When the tulip’s heart I viewed with the gaze of certitude, all I saw was ecstasy, sighs, and sobbing bitterly.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 65
یہ دنیا بھی ایک جہان ہے اور وہ آخرت بھی ایک جہان ہے ۔ اس کا بھی کوئی کنارہ نہیں اور یہ بھی بے کنار ہے ۔
This is a world that like to it, each boundless is, and infinite;
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 66
بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔
Spring is come; bright glances dart in the tulip’s bowl of fire; thousand thousand sighs upspire from each several ember’s heart.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 67
وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔
The Artist, Whose vast mind both day and night designed, engraving these, displays upon Himself His gaze.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 68
اس پرانے بوڑھے کو پھر سے جوان ہونا چاہیے اور اسکے تنکے کو بھاری پہاڑی کی مانند ہونا چاہیے (یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی خودی سے آشنا ہو) ۔
This ancient universe new youth must now rehearse, its trembling blade of grass huge mountains should surpass.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 69
اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔
In the mead a tulip blows in whose breast no yearning glows, a narcissus, languid too, yet it lacked the eye to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 70
اس دیرپا (صدیوں سے موجود) مندر میں ہنگامے کس نے پیدا کئے ہیں کہ اس مندر کے زناری (دنیا دار لوگ) سب کے سب بانسری کی مانند رو رہے ہیں (دیر پا مندر سے مراد یہ دنیا ہے جہاں ہر آدمی مضطرب و بے چین ہے) ۔
Whence hath this commotion swirled in our old, slow-moving world that each girdled infidel like a reed of grief doth tell?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 71
باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔
Tulip in the mountains blowing, lamp in mead and garden glowing, gaze on me, for I will give guidance on the way to live.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 72
میں تو ایک آزاد انسان ہوں اور عشق میرا رہبر ہے ۔ عشق میرا رہبر ہے تو عقل میری غلام ہے ۔
I am a slave set free, and Love still leadeth me; Love is my leader still, mind bows to do my will.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 73
کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔
Silent rosebud in her heart had a secret, veiled apart, suffered countless aches and woes buffeted by thyme and rose.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 74
میں اب اپنے آپ ہی کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ اب مندر اور مسجد دونوں ہی باقی نہیں رہے ۔ مسجد عرب میں نہیں رہی اور مندر عجم میں موجود نہیں ۔ (نہ تو مسجد ہی رہبری کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور نہ ہی مندر میں کوئی راہنما موجود ہے تو پھر اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں کہ میں صرف اپنے ضمیر کی پیروی کروں ) ۔
I bow down before myself – there is no temple or Ka’bah left! This one is missing in Arabia, that one in other lands.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 75