شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: ستاین
صنف: غزل/قصیده/قطعه
جهان رنگ و بو پیدا تو میگوئی که راز است این
یکی خود را بتارش زن که تو مضراب و ساز است این
یہ جہان جو رنگ اور خوشبووَں سے بھرپور ہے ۔ لیکن تو اس جہان رنگ و بو کو ایک راز کہتا ہے ایک دفعہ خود کو اس کے تاروں پر لگا تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو مضراب ہے اور یہ جہان ایک ساز ہے ۔ تیرے مضراب کے بغیر سازِ جہاں میں نغمگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔
A secret ’tis, ’tis evident (Thou sayst) this world of hue and scent: Go, strike thyself upon its wire – Thou art the plectrum, it the lyre.
نگاه جلوه بدمست از صفای جلوه می لغزد
تو میگوئی حجابست این نقابست این مجاز است این
محبوب حقیقی کے جلووں میں پوری طرح مست رہنے والی نگاہ محبوب کے جلووں کی آب و تاب سے لغزش کھا جاتی ہے ۔ آنکھوں میں محبوب کے جلووں کی تاب نظارہ نہیں ۔ اس لیے تو یہ کہتا ہے کہ یہ نقاب ہے ، حجاب ہے، اور مجاز ہے (اگر تو خوب غور کرے تو آنکھوں کے سامنے حائل تمام پردے ہٹ جائیں گے) ۔
The gaze disclosed in ecstasy trembles to view its purity, and yet thou sayst it is a veil. A covering, a thing unreal!
بیا در کش طناب پرده های نیلگونش را
که مثل شعله عریان بر نگاه پاکباز است این
آ (اور اس دنیا کے آسمان پر پڑے ہوئے ) نیلے پردوں کی طنابیں کھینچ یہ جہان پاکیزہ نگاہوں پر شعلہ کی طرح ظاہر ہے ۔ (اللہ کے نیک بندوں پر اس جہان کی حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کیونکہ ان کی نگاہیں دنیا کی آلودگی سے پاک ہوتی ہیں ) ۔
Pull down the pole of the immense that struts heaven’s cerulean tents, for like a spark it naked lies before the contemplative eyes.
مرا این خاکدان من ز فردوس برین خوشتر
مقام ذوق و شوقست این حریم سوز و ساز است این
میرا یہ جسم خاکی فردوس برین سے بڑھ کر ہے کیونکہ میرا یہ ذوق و شوق کا مقام اور سوز و ساز کا گھر ہے (جبکہ فردوس بریں ان تمام جذبات و احساسات سے بے خبر ہے) ۔
High Paradise is not so fair as this clay garment that I wear; within this sanctuary of mine is holy fire, and joy divine.
زمانی گم کنم خود را زمانی گم کنم او را
زمانی هر دو را یابم چه رازست این چه رازست این
ایک وقت ایسا ہوتا ہے میں حالت عشق میں اپنے آپ کو گم کر لیتا ہوں ۔ اور کبھی یہ حالت ہوتی ہے کہ میں اسے یعنی خدا کو گم کر دیتا ہوں (حالت جذب میں چلا جاتا ہوں ) پھر ایک وقت آتا ہے کہ میں دونوں (خدا کو )اور (خود کو) پا لیتا ہوں ۔ یہ کیا راز ہے (یہ راز کوئی معرفت آشنا ہی بتا سکتا ہے جس نے میرے جذب و سلوک کی منازل طے کر رکھی ہوں ) ۔
I lose myself a little time, I lose awhile the great sublime, the twain discovering presently – O miracle, O mystery!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور