بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو
که نیرزد به جوی اینهمه دیرینه و نو
مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔
Eschew the West, and do not be bewitched by Europe’s wizardry; not worth barley, in my view, is all her ancient and her new.
چون پرکاه که در رهگذر باد افتاد
رفت اسکندر و دارا و قباد و خسرو
راہ میں پڑے ہوئے گھاس کے بے کار تنکے کی مانند یونان کا سکندر، ایران کا درا ، قیقباد اور خسرو جیسے عظیم فرمانروا اڑ گئے ۔ (دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہا ۔ خواہ وہ کتنا ہی طاقتور تھا ۔ دنیا میں صرف ازلی و ابدی اصول ہی باقی رہیں گے) ۔
Mighty Darius, Iskandar, Khusrau and Kaikobad – all are a blade of grass upon the way swept by a passing wind, to-day.
زندگی انجمن آرا و نگهدار خود است
ایکه در قافله ئی بی همه شو با همه رو
زندگی انجمن آراستہ کرنے والی اور اپنی حفاظت خود کرنے والی ہے ۔ اے وہ شخص جو اس کاروان زندگی میں شامل ہے سب کارواں کے ساتھ چل، لیکن اپنی منفرد حیثیت بھی برقرار رکھ ۔
Life is the self to beautify, to guard the self right jealously; upon a caravan thou art – fare on with all, but go apart!
تو فروزنده تر از مهر منیر آمده ئی
آنچنان زی که بهر ذره رسانی پرتو
اے انسان تو روشن اور روشنی دینے والے سورج سے بھی زیادہ روشن ہے ۔ تو اس طرح زندگی بسر کر کہ تیری روشنی سے ہر ذرہ چمک اٹھے ۔
Radiant thou camest from the sky, far brighter than the sun on high; so live, that every mote may be illumined by thy brilliancy.
آن نگینی که تو با اهرمنان باخته ئی
هم به جبریل امینی نتوان کرد گرو
اس نگیں (دل) کو جسے تو شیطانوں کے پاس ہار چکا ہے ۔ اسے تو جبریل امین کے پاس گروی بھی نہیں رکھا جا سکتا (تو نے اپنے دل کی قدر نہیں کی) ۔
Thou hast not spared thy precious ring idly to Ahriman to fling – to pledge the which it were not well even to trusty Gabriel.
از تنک جامی ما میکده رسوا گردید
شیشه ئی گیر و حکیمانه بیاشام و برو
میرے پیالے کی تنگ دامنی سے شراب خانہ کی رسوائی ہو گئی ۔ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید شراب خانے ہی میں شراب کم ہو گئی ہے ۔ (حالانکہ شراب خانے میں تو شراب کی کمی نہ تھی میرا ہی ظرف تنگ تھا) ۔ اب بھی وقت ہے مٹکا اٹھا کر عقل مندوں کی طرح پی کر شراب خانے سے جا (کیونکہ شراب حقیقت تو میکشوں کے ظرف کے مطابق ہی پلائی جاتی ہے) ۔
The tavern is ashamed, because so narrow is become our glass; a beaker take, and prudently drink wine – and then be off with thee!
زمین
خواجه درمانده فرج است و گرفتار گلو
«فانکحوا» بیش نخوانده ست ز قرآن و «کلوا»
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 408
ساقیا خیز که چون داس زر آمد مه نو
عید ازان مزرع پرهیز و ورع کرد درو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 410
تا خم چرخ کهن باشد و جام مه نو
بهر جامی بودم خرقه به خمخانه گرو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 795
مزرعِ سبزِ فلک دیدم و داسِ مه نو
یادم از کِشتهٔ خویش آمد و هنگامِ درو
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 407
همه خوردند و برفتند و بماندم من و تو
چو مرا یافتهای صُحبتِ هر خام مجو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2218
سر عثمان تو مست است بر او ریز کدو
چون عمر محتسبی دادکنی این جا کو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2222
کشت بی خوشه خجالت کشد از روی درو
مفکن ای تیغ اجل بر من بیدل پرتو
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 6507
فارسی متن کا ماخذ: گنجور