صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 62

غزل شمارهٔ 62

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: و

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

که نیرزد به جوی اینهمه دیرینه و نو

مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔

Eschew the West, and do not be bewitched by Europe’s wizardry; not worth barley, in my view, is all her ancient and her new.

2

چون پرکاه که در رهگذر باد افتاد

رفت اسکندر و دارا و قباد و خسرو

راہ میں پڑے ہوئے گھاس کے بے کار تنکے کی مانند یونان کا سکندر، ایران کا درا ، قیقباد اور خسرو جیسے عظیم فرمانروا اڑ گئے ۔ (دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہا ۔ خواہ وہ کتنا ہی طاقتور تھا ۔ دنیا میں صرف ازلی و ابدی اصول ہی باقی رہیں گے) ۔

Mighty Darius, Iskandar, Khusrau and Kaikobad – all are a blade of grass upon the way swept by a passing wind, to-day.

3

زندگی انجمن آرا و نگهدار خود است

ایکه در قافله ئی بی همه شو با همه رو

زندگی انجمن آراستہ کرنے والی اور اپنی حفاظت خود کرنے والی ہے ۔ اے وہ شخص جو اس کاروان زندگی میں شامل ہے سب کارواں کے ساتھ چل، لیکن اپنی منفرد حیثیت بھی برقرار رکھ ۔

Life is the self to beautify, to guard the self right jealously; upon a caravan thou art – fare on with all, but go apart!

4

تو فروزنده تر از مهر منیر آمده ئی

آنچنان زی که بهر ذره رسانی پرتو

اے انسان تو روشن اور روشنی دینے والے سورج سے بھی زیادہ روشن ہے ۔ تو اس طرح زندگی بسر کر کہ تیری روشنی سے ہر ذرہ چمک اٹھے ۔

Radiant thou camest from the sky, far brighter than the sun on high; so live, that every mote may be illumined by thy brilliancy.

5

آن نگینی که تو با اهرمنان باخته ئی

هم به جبریل امینی نتوان کرد گرو

اس نگیں (دل) کو جسے تو شیطانوں کے پاس ہار چکا ہے ۔ اسے تو جبریل امین کے پاس گروی بھی نہیں رکھا جا سکتا (تو نے اپنے دل کی قدر نہیں کی) ۔

Thou hast not spared thy precious ring idly to Ahriman to fling – to pledge the which it were not well even to trusty Gabriel.

6

از تنک جامی ما میکده رسوا گردید

شیشه ئی گیر و حکیمانه بیاشام و برو

میرے پیالے کی تنگ دامنی سے شراب خانہ کی رسوائی ہو گئی ۔ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید شراب خانے ہی میں شراب کم ہو گئی ہے ۔ (حالانکہ شراب خانے میں تو شراب کی کمی نہ تھی میرا ہی ظرف تنگ تھا) ۔ اب بھی وقت ہے مٹکا اٹھا کر عقل مندوں کی طرح پی کر شراب خانے سے جا (کیونکہ شراب حقیقت تو میکشوں کے ظرف کے مطابق ہی پلائی جاتی ہے) ۔

The tavern is ashamed, because so narrow is become our glass; a beaker take, and prudently drink wine – and then be off with thee!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ترا نادان امید غمگساریها ز افرنگ است

دل شاهین نسوزد بهر آن مرغی که در چنگ است

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 61

اگلی نظم

جهان رنگ و بو پیدا تو میگوئی که راز است این

یکی خود را بتارش زن که تو مضراب و ساز است این

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 63

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خواجه درمانده فرج است و گرفتار گلو

«فانکحوا» بیش نخوانده ست ز قرآن و «کلوا»

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 408

ساقیا خیز که چون داس زر آمد مه نو

عید ازان مزرع پرهیز و ورع کرد درو

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 410

تا خم چرخ کهن باشد و جام مه نو

بهر جامی بودم خرقه به خمخانه گرو

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 795

مزرعِ سبزِ فلک دیدم و داسِ مه نو

یادم از کِشتهٔ خویش آمد و هنگامِ درو

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 407

همه خوردند و برفتند و بماندم من و تو

چو مرا یافته‌ای صُحبتِ هر خام مجو

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2218

سر عثمان تو مست است بر او ریز کدو

چون عمر محتسبی دادکنی این جا کو

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2222

کشت بی خوشه خجالت کشد از روی درو

مفکن ای تیغ اجل بر من بیدل پرتو

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 6507

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور