صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 61

غزل شمارهٔ 61

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: نگاست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ترا نادان امید غمگساریها ز افرنگ است

دل شاهین نسوزد بهر آن مرغی که در چنگ است

اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی امید اہلِ یورپ سے رکھتا ہے ۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لیے نہیں جلتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ (جس طرح شکاری اپنے شکار پر رحم نہیں کھاتا اسی طرح اہلِ یورپ بھی اپنی سنگدلی کی بدولت محکوم اقوام پر رحم نہیں کھاتے ۔ اس لیے اہل یورپ سے محکوم لوگوں کو رحم کی امید نہیں رکھنی چاہیے) ۔

Fool! Is there then such hope in thee of winning Europe’s sympathy? The falcon grieves not overmuch about the bird that’s in his clutch.

2

پشیمان شو اگر لعلی ز میراث پدر خواهی

کجا عیش برون آوردن لعلی که در سنگ است

اگر تو اپنے باپ کی وراثت کا حقدار بننا چاہتا ہے تو محنت کر کیونکہ وہ مزا جو پتھر سے لعل نکالنے میں ہے وہ بغیر محنت کے حاصل ہونے والی چیز نہیں (آرام اور تن آسانی سے زندگی کا گوہرِ مقصود حاصل نہیں ہوتا) ۔

Shame on thee, only to desire rubies bequeathed thee by thy sire! Is there not one delight alone – to win thee rubies from the stone.

3

سخن از بود و نابود جهان با من چه میگوئی

من این دانم که من هستم ندانم این چه نیرنگ است

تو مجھ سے جہاں کے ہونے یا نہ ہونے کی کیا بات کرتا ہے میں تو اتنا جانتا ہوں کہ میں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ یہ جہان موجود ہے کیا یہ تماشا ہے یا ہے بھی یا نہیں ۔ (مجھے اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ) کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں ایک حقیقت ہوں اور جہاں محض ایک قیاس ہے) ۔

Speak not about the world to me, if it be not or if it be; I only know that I am I, the world-illusion let go by.

4

درین میخانه هر مینا ز بیم محتسب لرزد

مگر یک شیشهٔ عاشق که از وی لرزه بر سنگ است

اس میخانہ (دنیا میں ) ہر صراحی احتساب کرنے والے کے خوف سے کانپتی ہے (کہ محتسب کو خبر ہونے پر وہ اسے توڑ نہ دے ) مگر ایک عاشق کا شیشہ ہے کہ اس سے پتھر بھی خوفزدہ ہے (ہر گناہ گار اپنے گناہوں کے احتساب سے خوفزدہ ہوتا ہے لیکن اللہ کے دوستوں کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا) ۔

Trembles each tavern-glass with fear because the officer is here, except one lover’s bowl doth make the very stones with dread to shake.

5

خودی را پرده میگوئی بگو من با تو این گویم

مزن این پرده را چاکی که دامان نگه تنگ است

تو اگر خودی کو پردہ کہتا ہے (تو شوق ہے) کہ ، لیکن میں تجھ سے یہ کہتا ہوں کہ اس پردے کو چاک کرنے کی کوشش نہ کر ۔ کیونکہ نگاہ اس تجلی کی تاب نہ لا سکے گی جو اس پردے کے پیچھے پنہاں ہے ۔

Sayst thou that veiled the selfhood is? Say on; but let me tell thee this – tear not this veil into a shred; narrow’s the vision in the head.

6

کهن شاخی که زیر سایه او پر بر آوردیی

چو برگش ریخت از وی آشیان برداشتن ننگ است

درخت کی پرانی شاخ جس کے سائے میں تو نے اپنے بال و پر نکالے ہیں ۔ جب اس شاخ کے پتے جھڑ گئے ہیں تو اس سے گھونسلہ اٹھا لیا شرم کی بات ہے (عہدِ زوال میں پرانے ساتھیوں کو چھوڑ جانا مردانگی نہیں ) ۔

The ancient bough, beneath whose shade thy little sprouting wings were laid, were it into shame to move at last thy nest, when all its leaves are cast?

7

غزل آن گو که فطرت ساز خود را پرده گرداند

چه آید زان غزل خوانی که با فطرت هماهنگ است

اے شاعر غزل وہ کہہ کہ فطرت اسے اپنے ساز کا پردہ جانے (جسے سن کر فطرت کے نظام کار میں ہلچل مچ جائے) ایسی غزل کہنے سے کیا حاصل جو فطرت کے ہم آہنگ ہو ۔ جس سے تبدیلی ممکن نہ ہو ۔ غزل ایسی ہو جو معاشرے میں انقلابی تبدیلی لے آئے ۔

Call that a song, which Nature brings to serve as music for her strings; what use is in the minstrelsy that all with Nature doth agree?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را

پس از مدت شنیدم نغمه های ساربانی را

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 60

اگلی نظم

بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

که نیرزد به جوی اینهمه دیرینه و نو

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 62

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور