شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: نیدارم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
از داغ فراق او در دل چمنی دارم
ای لالهٔ صحرائی با تو سخنی دارم
محبوب کی جدائی کے زخموں سے دل کا چمن آباد ہے ۔ اے لالہ صحرائی میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں (تجھے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہوں ) ۔
This brand of grief, His love apart, hath sown a garden in my heart; O desert-flame anemone, I have a word to say to thee!
این آه جگر سوزی در خلوت صحرا به
لیکن چکنم کاری با انجمنی دارم
جگر کو جلانے والی یہ آہ جو میں برسر بزم کھینچتا ہوں صحرا کی خلوت میں کھینچنی بہتر ہے ۔ لیکن کیا کروں میری مجبوری یہ ہے کہ انجمن دنیا سے تعلق رکھتا ہوں (عشق مجھے صحراؤں کی طرف لے جاتا ہے لیکن دنیا کے فراءض مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں ) ۔
Best in the wilderness, alone, to breathe the soul-consuming groan; yet what can I, condemned for good to wrestle with the multitude?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور