شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول)
به نگاه آشنائی چو درون لاله دیدم
همه ذوق و شوق دیدم همه آه و ناله دیدم
میں نے معرفت کی نگاہ سے لالہ کے پھول کے اندر دیکھا تو مجھے وہ تمام پھول ذوق و شوق سے لبریز اور آہ و نالہ دکھائی دیا ۔
When the tulip’s heart I viewed with the gaze of certitude, all I saw was ecstasy, sighs, and sobbing bitterly.
به بلند و پست عالم تپش حیات پیدا
چه دمن چه تل چه صحرا رم این غزاله دیدم
اس جہان کی پستی اور بلندی میں زندگی کی حرارت عیاں ہو ہی ہے کیا وادی ، کیا ٹیلہ ، کیا صحرا میں اس ہرنی کو چوکڑیاں بھرتے دیکھا ہے ۔
In the highest and the least is life’s quiver manifest; over plain and hill and dell ever leaps this wild gazelle.
نه به ماست زندگانی نه ز ما ست زندگانی
همه جاست زندگانی ز کجا ست زندگانی
اس کے باوجود زندگی نہ ہمارے ساتھ ہے اور نہ یہ زندگی ہماری وجہ سے ہے ۔ ہمیں زندگی پر اختیار نہیں اور نہ ہی ہم اسے تخلیق کر سکتے ہیں ۔ زندگی ہر جگہ ہے لیکن یہ کہاں سے ہے کوئی نہیں جانتا
Life is not of us alone, life is not for us to own; life is everywhere to see – Ah, and whence came life to be?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور