باب
لالهٔ طور
نظمیں
رباعی شمارهٔ 101جهان ما که جز انگاره ئی نیست
ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے —
رباعی شمارهٔ 102چسان ای آفتاب آسمان گرد
کیسے اے آسمان پر گردش کرنے والے آفتاب —
رباعی شمارهٔ 103تراش از تیشهٔ خود جادهٔ خویش
اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا —
رباعی شمارهٔ 104بمنزل رهرو دل در نسازد
دل ایسا مسافر ہے جو منزل کو پسند نہیں کرتا —
رباعی شمارهٔ 105بیا با شاهد فطرت نظر باز
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —
رباعی شمارهٔ 106میان آب و گل خلوت گزیدم
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے —
رباعی شمارهٔ 107ز آغاز خودی کس را خبر نیست
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —
رباعی شمارهٔ 108دلا رمز حیات از غنچه دریاب
اے دل! حیات کا راز کلی سے سمجھ —
رباعی شمارهٔ 109فروغ او به بزم باغ و راغ است
اللہ تعالیٰ کا نور باغ و صحرا میں پھیلا ہوا ہے —
رباعی شمارهٔ 110ز خاک نرگسستان غنچه ئی رست
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا —
رباعی شمارهٔ 111جهان کز خود ندارد دستگاهی
جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا —
رباعی شمارهٔ 112دل من رازدان جسم و جان است
جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے —
رباعی شمارهٔ 113گل رعنا چو من در مشکلی هست
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے —
رباعی شمارهٔ 114مزاج لالهٔ خود رو شناسم
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں —
رباعی شمارهٔ 115جهان یک نغمه زار آرزوئی
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —
رباعی شمارهٔ 116دل من بی قرار آرزوئی
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے —
رباعی شمارهٔ 117دوام ما ز سوز ناتمام است
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے —
رباعی شمارهٔ 118مرنج از برهمن ای واعظ شهر
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو —
رباعی شمارهٔ 119حکیمان گرچه صد پیکر شکستند
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں —
رباعی شمارهٔ 120جهانها روید از مشت گل من
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں —
رباعی شمارهٔ 121هزاران سال با فطرت نشستم
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں —
رباعی شمارهٔ 122به پهنای ازل پر می گشودم
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —
رباعی شمارهٔ 123درونم جلوهٔ افکار این چیست؟
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟ —
رباعی شمارهٔ 124بخود نازم گدای بی نیازم
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —
رباعی شمارهٔ 125اگر آگاهی از کیف و کم خویش
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے —
رباعی شمارهٔ 126چه غم داری ، حیات دل ز دم نیست
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں —
رباعی شمارهٔ 127تو ای دل تا نشینی در کنارم
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے —
رباعی شمارهٔ 128ز من گو صوفیان با صفا را
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو —
رباعی شمارهٔ 129چو نرگس این چمن نادیده مگذر
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر —
رباعی شمارهٔ 130تراشیدم صنم بر صورت خویش
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں —
رباعی شمارهٔ 131به شبنم غنچهٔ نورسته می گفت
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا —
رباعی شمارهٔ 132زمین را رازدان آسمان گیر
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ —
رباعی شمارهٔ 133ضمیر کن فکان غیر از تو کس نیست
جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں —
رباعی شمارهٔ 134زمین خاک در میخانهٔ ما
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے —
رباعی شمارهٔ 135سکندر رفت و شمشیر و علم رفت
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے —
رباعی شمارهٔ 136ربودی دل ز چاک سینهٔ من
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا —
رباعی شمارهٔ 137ز پیش من جهان رنگ و بو رفت
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں —
رباعی شمارهٔ 138مرا از پردهٔ ساز آگهی نیست
میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں —
رباعی شمارهٔ 139نوا مستانه در محفل زدم من
میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی —
رباعی شمارهٔ 140عجم از نغمه های من جوان شد
عجم میرے نغموں سے جوان ہو گیا —
رباعی شمارهٔ 141عجم از نغمه ام آتش بجان است
میرے نغمے سے عجم کے دل میں آگ بھڑک اٹھی ہے —
رباعی شمارهٔ 142ز جان بیقرار آتش گشادم
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے —
رباعی شمارهٔ 143مرا مثل نسیم آواره کردند
مجھے صبح کی تازہ ہوا کی مانند آزاد رو بنایا گیا ہے —
رباعی شمارهٔ 144خرد کرپاس را زرینه سازد
عقل ایک معمولی کپڑے کو اطلس بنا دیتی ہے —
رباعی شمارهٔ 145ز شاخ آرزو بر خورده ام من
میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں —
رباعی شمارهٔ 146خیالم کو گل از فردوس چیند
میرا تخیل جو بہشت سے پھول چنتا ہے —
رباعی شمارهٔ 147عجم بحریست ناپیدا کناری
عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں —
رباعی شمارهٔ 148مگو کار جهان نااستوار است
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں —
رباعی شمارهٔ 149رمیدی از خداوندان افرنگ
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے —
رباعی شمارهٔ 150قبای زندگانی چاک تا کی
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟ —

