رباعی شمارهٔ 147

عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

Persia is a sea with no visible shore

اس کلام کو اپنی آواز دیں

اپنی ریکارڈنگ زندہ رود کے قارئین تک پہنچائیں۔

آڈیو شامل کریں
Toggle stanza 1
عجم بحریست ناپیدا کناری
1
عجم بحریست ناپیدا کناری
که در وی گوهر الماس رنگ است

عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں —

اس کے اندر قیمتی سفید موتی ہیں۔

Persia is a sea with no visible shore —

In it, gems of diamond hue do pour.

2
ولیکن من نرانم کشتی خویش
به دریائی که موجش بی نهنگ است

لیکن میں ایسے سمندر میں اپنی کشتی نہیں ڈالتا —

جس کی موجوں میں مگرمچھ (خطرات) نہ ہوں۔

Yet I will not steer my ship, though rich it seems —

In a sea where waves hold no whales in their streams.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…