باب
لالهٔ طور
نظمیں
رباعی شمارهٔ 1شهید ناز او بزم وجود است
بزمِ وجود ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر گواہ ہے —
رباعی شمارهٔ 2دل من روشن از سوز درون است
باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے —
رباعی شمارهٔ 3به باغان باد فروردین دهد عشق
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے —
رباعی شمارهٔ 4عقابان را بهای کم نهد عشق
عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے —
رباعی شمارهٔ 5به برگ لاله رنگ آمیزی عشق
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے —
رباعی شمارهٔ 6نه هر کس از محبت مایه دار است
ہر شخص محبت کی دولت رکھنے والا نہیں —
رباعی شمارهٔ 7درین گلشن پریشان مثل بویم
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں —
رباعی شمارهٔ 8جهان مشت گل و دل حاصل اوست
یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے —
رباعی شمارهٔ 9سحر می گفت بلبل باغبان را
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا —
رباعی شمارهٔ 10جهان ما که نابود است بودش
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —
رباعی شمارهٔ 11نوای عشق را ساز است آدم
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں) —
رباعی شمارهٔ 12نه من انجام و نی آغاز جویم
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —
رباعی شمارهٔ 13دلا نارائی پروانه تا کی
اے دل! توکب پروانے کی سی نادانی اختیار کیے رکھے گا؟ —
رباعی شمارهٔ 14تنی پیدا کن از مشت غباری
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر —
رباعی شمارهٔ 15ز آب و گل خدا خوش پیکری ساخت
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا —
رباعی شمارهٔ 16به یزدان روز محشر برهمن گفت
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالے کی جناب میں عرض کی —
رباعی شمارهٔ 17گذشتی تیز گام ای اختر صبح
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے —
رباعی شمارهٔ 18تهی از های و هو میخانه بودی
دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا —
رباعی شمارهٔ 19ترا ای تازه پرواز آفریدند
اے فخر سے پرواز کرتی نئی روح! —
رباعی شمارهٔ 20چه لذت یارب اندر هست و بود است
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —
رباعی شمارهٔ 21شنیدم در عدم پروانه میگفت
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا —
رباعی شمارهٔ 22مسلمانان مرا حرفی است در دل
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے —
رباعی شمارهٔ 23به کویش رهسپاری ای دل ای دل
اے دل، میرے دل، تو اُس کی راہ پر چل پڑا ہے! —
رباعی شمارهٔ 24رهی در سینهٔ انجم گشائی
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے —
رباعی شمارهٔ 25سحر در شاخسار بوستانی
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر —
رباعی شمارهٔ 26ترا یک نکتهٔ سر بسته گویم
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے —
رباعی شمارهٔ 27بهل افسانهٔ آن پا چراغی
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ —
رباعی شمارهٔ 28ترا از خویشتن بیگانه سازد
جو تجھے اپنا آپ بھلا دے —
رباعی شمارهٔ 29زیان بینی ز سیر بوستانم
تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا —
رباعی شمارهٔ 30برون از ورطهٔ بود و عدم شو
ہونے اور نہ ہونے کے چکر سے نکل —
رباعی شمارهٔ 31ز مرغان چمن نا آشنایم
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں —
رباعی شمارهٔ 32جهان یارب چه خوش هنگامه دارد
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے —
رباعی شمارهٔ 33سکندر با خضر خوش نکته ئی گفت
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی —
رباعی شمارهٔ 34سریر کیقباد ، اکلیل جم خاک
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں —
رباعی شمارهٔ 35اگر در مشت خاک تو نهادند
اگر خدا نے تیرے بدن میں —
رباعی شمارهٔ 36دمادم نقش های تازه ریزد
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں —
رباعی شمارهٔ 37چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد
جب مجھے نغمے کا ذوق جلوت میں لاتا ہے —
رباعی شمارهٔ 38چه میپرسی میان سینه دل چیست
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے —
رباعی شمارهٔ 39خرد گفت او بچشم اندر نگنجد
عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا —
رباعی شمارهٔ 40کنشت و مسجد و بتخانه و دیر
گرجا، مسجد، مندر اور آتشکدہ —
رباعی شمارهٔ 41نه پیوستم درین بستان سرا دل
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا —
رباعی شمارهٔ 42به خود باز آورد رند کهن را
پرانے شرابی کو دوبارہ ہوش میں لے آئی —
رباعی شمارهٔ 43سفالم را می او جام جم کرد
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا —
رباعی شمارهٔ 44خرد زنجیری امروز و دوش است
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —
رباعی شمارهٔ 45خرد اندر سر هر کس نهادند
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے —
رباعی شمارهٔ 46گدای جلوه رفتی بر سر طور
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا —
رباعی شمارهٔ 47بگو جبریل را از من پیامی
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو —
رباعی شمارهٔ 48همای علم تا افتد بدامت
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے —
رباعی شمارهٔ 49خرد بر چهرهٔ تو پرده ها بافت
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں —
رباعی شمارهٔ 50دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے —

