باب
لالهٔ طور
نظمیں
رباعی شمارهٔ 51ز پیوند تن و جانم چه پرسی
تن و جان کے اختلاط کے بارے میں کیا پوچھتا ہے —
رباعی شمارهٔ 52مرا فرمود پیر نکته دانی
ایک دانا بزرگ نے مجھ سے فرمایا —
رباعی شمارهٔ 53ز رازی معنی قرآن چه پرسی؟
تو قرآن کے معنی رازی سے کیا پوچھتا ہے؟ —
رباعی شمارهٔ 54من از بود و نبود خود خموشم
میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں —
رباعی شمارهٔ 55ز من با شاعر رنگین بیان گوی
شاعر رنگین بیان کو میری طرف سے کہو —
رباعی شمارهٔ 56ز خوب و زشت تو ناآشنایم
میں تیرے برے بھلے سے انجان ہوں (متفق نہیں ہوں ) —
رباعی شمارهٔ 57تو ای شیخ حرم شاید ندانی
اے شیخ حرم! تو شاید نہیں جانتا —
رباعی شمارهٔ 58چو تاب از خود بگیرد قطرهٔ آب
پانی کا قطرہ جب اندر سے چمک اٹھتا ہے —
رباعی شمارهٔ 59من ای دانشوران در پیچ و تابم
اے دانشورو ! میں ایک الجھن میں ہوں —
رباعی شمارهٔ 60میارا بزم بر ساحل که آنجا
ساحل پر بزم آراستہ نہ کر —
رباعی شمارهٔ 61سراپا معنی سر بسته ام من
میں سر سے پاؤں تک ایک چھپی حقیقت ہوں —
رباعی شمارهٔ 62مگو از مدعای زندگانی
زندگی کے مقصد کے بارے میں زبان مت کھول —
رباعی شمارهٔ 63اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —
رباعی شمارهٔ 64وفا ناآشنا بیگانه خو بود
وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —
رباعی شمارهٔ 65مپرس از عشق و از نیرنگی عشق
عشق اور اس کی جادوگری کا مت پوچھ —
رباعی شمارهٔ 66مشو ای غنچهٔ نورسته دلگیر
اے نوزائیدہ غنچے، اداس مت ہو —
رباعی شمارهٔ 67مرا روزی گل افسرده ئی گفت
ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا —
رباعی شمارهٔ 68جهان ما که پایانی ندارد
ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں —
رباعی شمارهٔ 69به مرغان چمن همداستانم
میں باغ کے پرندوں کا ہمنوا اور رفیق ہوں —
رباعی شمارهٔ 70نماید آنچه هست این وادی گل؟
کیا یہ وادیء گل وہی نظر آتی ہے ، جو وہ ہے —
رباعی شمارهٔ 71تو خورشیدی و من سیارهٔ تو
تو سورج ہے اور میں تیرے گرد چکر لگانے والا سیارہ ہوں —
رباعی شمارهٔ 72خیال او درون دیده خوشتر
آنکھوں میں اس کا تصور خوب ہے —
رباعی شمارهٔ 73دماغم کافر زنار دار است
میرا ذہن جنیئو ڈالنے والا کٹر کافر ہے —
رباعی شمارهٔ 74صنوبر بندهٔ آزادهٔ او
صنوبر اس (خالق کائنات) کا ایک آزاد منش غلام ہے —
رباعی شمارهٔ 75ز انجم تا به انجم صد جهان بود
ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —
رباعی شمارهٔ 76بپای خود مزن زنجیر تقدیر
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
رباعی شمارهٔ 77دل من در طلسم خود اسیر است
میرا دل آپ اپنے جادو میں گرفتار ہے —
رباعی شمارهٔ 78نوا در ساز جان از زخمهٔ تو
(اے اللہ) میری روح کے ساز میں آواز تیری مضراب سے ہے —
رباعی شمارهٔ 79نفس آشفته موجی از یم اوست
ہماری بے قرار سانس اللہ تعالیٰ کے بحر بیکراں سے اٹھی ہوئی ایک موج ہے —
رباعی شمارهٔ 80ترا درد یکی در سینه پیچید
آپ کے سینے میں تنہائی کا درد پیچ و تاب کھا رہا تھا —
رباعی شمارهٔ 81کرا جوئی چرا در پیچ و تابی
تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —
رباعی شمارهٔ 82تو ای کودک منش خود را ادب کن
تیری عادت طفلانہ ہے، ادب سیکھ —
رباعی شمارهٔ 83نه افغانیم و نی ترک و تتاریم
ہم نہ افغان ہیں نہ ترک اور تاتاری —
رباعی شمارهٔ 84نهان در سینهٔ ما عالمی هست
ایک جہان ہمارے سینے میں پوشیدہ ہے —
رباعی شمارهٔ 85دل من ای دل من ایدل من
اے میرے دل ، اے میرے دل ، اے میرے دل —
رباعی شمارهٔ 86چه گویم نکتهٔ زشت و نکو چیست
میں کیا کہوں کہ خیر و شر کیا ہے —
رباعی شمارهٔ 87کسی کو درد پنهانی ندارد
جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —
رباعی شمارهٔ 88چه پرسی از کجایم چیستم من؟
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —
رباعی شمارهٔ 89به چندین جلوه در زیر نقابی
اس جلوہ آرائی کے باوجود آپ پردے میں ہیں —
رباعی شمارهٔ 90دل از منزل تهی کن پا بره دار
منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —
رباعی شمارهٔ 91بیا ای عشق ای رمز دل ما
اے عشق، اے ہمارے دل کے راز آ —
رباعی شمارهٔ 92سخن درد و غم آرد ، درد و غم به
شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —
رباعی شمارهٔ 93نه من بر مرکب ختلی سوارم
نہ میں اعلی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوں —
رباعی شمارهٔ 94کمال زندگی خواهی بیاموز
زندگی کا کمال چاہتا ہے، لے سن —
رباعی شمارهٔ 95تو میگوئی که آدم خاکزاد است
تو کہتا ہے کہ آدم خاک سے پیدا ہوا ہے —
رباعی شمارهٔ 96دل بیباک را ضرغام رنگ است
دل بیباک کے لیے شیر بھی پہاڑی بکری ہے —
رباعی شمارهٔ 97ندانم باده ام یا ساغرم من
میں نہیں جانتا کہ میں شراب ہوں یا شراب کا پیالہ ہوں —
رباعی شمارهٔ 98تو گوئی طایر ما زیر دام است
تو کہتا ہے کہ ہمارا پرندہ (روح) جال کے نیچے ہے —
رباعی شمارهٔ 99چسان زاید تمنا در دل ما
ہمارے دل میں تمنا کیسے پیدا ہوتی ہے؟ —
رباعی شمارهٔ 100چو در جنت خرامیدم پس از مرگ
جب میں فوت ہونے کے بعد جنت میں ٹہل رہا تھا —

