رباعی شمارهٔ 68

ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں

The Tulip of Sinai - 68

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: امغرقاست

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: نکلسن، مخدوم حسان
Toggle stanza 1
جهان ما که پایانی ندارد
1
جهان ما که پایانی ندارد
چو ماهی در یم ایام غرق است

ہماری دنیا جس کا کوئی کنارہ نہیں —

زمانے کے سمندر میں مچھلی کی طرح غرق ہے۔

Our infinite world – of old Time’s ocean swallows it up (like fish).

2
یکی بر دل نظر وا کن که بینی
یم ایام در یک جام غرق است

لیکن ذرا اپنے دل پر نظر ڈال —

زمانے کا سمندر اس ایک جام میں سمایا ہوا ہے۔

Look once in thy heart, and behold Time’s ocean sunk in a cup.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور