رباعی شمارهٔ 92

شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے

Poetry summons pain and sorrow, yet the ache is sweet

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: مبه

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
سخن درد و غم آرد ، درد و غم به
1
سخن درد و غم آرد ، درد و غم به
مرا این ناله های دمبدم به

شاعری درد غم لاتی ہے، مگر یہ درد و غم خوب ہے —

مجھے یہ ہر وقت نالہ و فریاد اچھا لگتا ہے۔

Poetry summons pain and sorrow, yet the ache is sweet —

Endless cries and laments, to my ears, a treat.

2
سکندر را ز عیش من خبر نیست
نوای دلکشی از ملک جم به

سکندر میرے عیش کو کیا جانے —

نوائے دلکش جمشید کی پادشاہت سے بہتر ہے۔

What knows Alexander of my joy and cheer? —

A single enchanting tune outshines Jamshid's sphere.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور