رباعی شمارهٔ 64

وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا

Unfamiliar with loyalty, alien in its ways

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وبود

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
وفا ناآشنا بیگانه خو بود
1
وفا ناآشنا بیگانه خو بود
نگاهش بیقرار از جستجو بود

وہ ( دل ) تو نا آشنا اور بے گانہ خو تھا —

اس کی نگاہ کسی اور کی جستجو میں بے قرار تھی ۔

Unfamiliar with loyalty, alien in its ways —

Its gaze restless, in pursuit of another's gaze.

2
چو دید او را پرید از سینهٔ من
ندانستم که دست آموز او بود

جب اسے دیکھا ، تو میرے سینے سے اڑ کر نکل گیا —

مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ اس کے ہاتھ کا سدھایا ہوا ( پرندہ ) تھا ۔

When it saw, it flew from my chest on a whim —

Unaware was I, my heart was tamed by another's limb.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور