رباعی شمارهٔ 87

جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا

One devoid of hidden yearnings (for his Lord) owns but a shell

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انیندارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
کسی کو درد پنهانی ندارد
1
کسی کو درد پنهانی ندارد
تنی دارد ولی جانی ندارد

جو شخص (اپنے خالق کیلئے) پوشیدہ درد نہیں رکھتا —

اس کا بدن تو ہے ، مگر اس میں روح نہیں ۔

One devoid of hidden yearnings (for his Lord) owns but a shell —

A body present, yet no soul to dwell.

2
اگر جانی هوس داری طلب کن
تب و تابی که پایانی ندارد

اگر تو روح کی خواہش رکھتا ہے تو طلب کر —

ایسی تپش اور تڑپ کہ جس کی انتہا نہ ہو ۔

Should you wish for a soul to hold —

Chase a heart’s fever that never grows cold.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور