رباعی شمارهٔ 11

نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں)

For the melody of love, man is the instrument

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ستادم

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
نوای عشق را ساز است آدم
1
نوای عشق را ساز است آدم
گشاید راز و خود رازست آدم

نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں) —

یہ (خالق حقیقی کا) راز وا کرتا ہے، مگر خود بھی راز ہے۔

For the melody of love, man is the instrument —

He unveils the Creator's secrets, yet he is a mystery himself.

2
جهان او آفرید این خوبتر ساخت
مگر با ایزد انباز است آدم

اللہ تعالیٰ نے جہان پیدا کیا، یہ اسے خوب تر بناتا ہے —

گویا یہ خالق کا شریک کار ہے۔

Allah created the world, and man makes it more beautiful —

As if he is a partner in the Creator's work.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور