رباعی شمارهٔ 47
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو
Tell Gabriel (A.S) from me, a message clear
Toggle stanza 1بگو جبریل را از من پیامی
11
بگو جبریل را از من پیامی
مرا آن پیکر نوری ندادند
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو —
مجھے تم جیسا پیکر نوری تو عطا نہیں ہوا۔
Tell Gabriel (A.S) from me, a message clear —
I wasn't granted a luminous form like his, so dear.
22
ولی تاب و تب ما خاکیان بین
به نوری ذوق مهجوری ندادند
لیکن ذرا ہم خاکیوں کی چمک دمک دیکھ —
(اللہ تعالیٰ سے ) دوری کا جو سوز و لطف ہمیں ملا ہے، نوری اس سے محروم ہیں۔
Yet observe the brilliance and fervor of us, made of clay —
In the joy and agony of separation, in a way the luminous cannot sway.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

