رباعی شمارهٔ 47

جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو

Tell Gabriel (A.S) from me, a message clear

Toggle stanza 1
بگو جبریل را از من پیامی
1
بگو جبریل را از من پیامی
مرا آن پیکر نوری ندادند

جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو —

مجھے تم جیسا پیکر نوری تو عطا نہیں ہوا۔

Tell Gabriel (A.S) from me, a message clear —

I wasn't granted a luminous form like his, so dear.

2
ولی تاب و تب ما خاکیان بین
به نوری ذوق مهجوری ندادند

لیکن ذرا ہم خاکیوں کی چمک دمک دیکھ —

(اللہ تعالیٰ سے ) دوری کا جو سوز و لطف ہمیں ملا ہے، نوری اس سے محروم ہیں۔

Yet observe the brilliance and fervor of us, made of clay —

In the joy and agony of separation, in a way the luminous cannot sway.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور