رباعی شمارهٔ 8

یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے

The Tulip of Sinai - 8

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: لاوست

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
Toggle stanza 1
جهان مشت گل و دل حاصل اوست
1
جهان مشت گل و دل حاصل اوست
همین یک قطرهٔ خون مشکل اوست

یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے —

لیکن یہی ایک قطرہء خون اس جہان کا مشکل راز ہے۔

The world is clay; our hearts its harvest be; yet is this drop of blood its mystery.

2
نگاه ما دو بین افتاد ورنه
جهان هر کسی اندر دل اوست

ہماری نظر (جہان اور دل) دونوں کو الگ الگ دیکھتی ہے ورنہ —

ہر شخص کا جہان اس کے اپنے دل کے اندر ہے۔

Surely our sight is double, or the world of every man is in his heart to see.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور