رباعی شمارهٔ 107

خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں

No soul knows whence the Khudi first came

Toggle stanza 1
ز آغاز خودی کس را خبر نیست
1
ز آغاز خودی کس را خبر نیست
خودی در حلقهٔ شام و سحر نیست

خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —

خودی شام و سحر کے حلقے میں نہیں سماتی۔

No soul knows whence the Khudi first came —

Nor does it rest in dawn or dusk's frame.

2
ز خضر این نکتهٔ نادر شنیدم
که بحر از موج خود دیرینه تر نیست

میں نے یہ نادر نکتہ خضر (علیہ السلام) سے سنا ہے —

کہ بحر اپنی موج سے قدیم تر نہیں۔

This rare truth from Khidr I discern —

The sea is not older than the waves that churn.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور