رباعی شمارهٔ 145

میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں

From the bough of desire, I've plucked the fruit

اس کلام کو اپنی آواز دیں

اپنی ریکارڈنگ زندہ رود کے قارئین تک پہنچائیں۔

آڈیو شامل کریں
Toggle stanza 1
ز شاخ آرزو بر خورده ام من
1
ز شاخ آرزو بر خورده ام من
به راز زندگی پی برده ام من

میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں —

میں زندگی کے راز کو پا چکا ہوں۔

From the bough of desire, I've plucked the fruit —

To life's hidden secrets, I've found the route.

2
بترس از باغبان ای ناوک انداز
که پیغام بهار آورده ام من

اے شکاری! باغبان سے ڈر —

کیونکہ میں بہار کا پیغام لانے والا ہوں۔ (اے دشمنانِ ملت! آپ ﷺ سے ڈرو اور اس پیغامِ بہار کی مخالفت نہ کرو)

O hunter, fear the gardener's might —

For I am the herald of spring's new light (O enemies! fear the Prophet (PBUH) and do not oppose this message of spring).

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…