رباعی شمارهٔ 118

اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو

O preacher, don't frown upon the Brahmin's quest

Toggle stanza 1
مرنج از برهمن ای واعظ شهر
1
مرنج از برهمن ای واعظ شهر
گر از ما سجده ئی پیش بتان خواست

اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو —

اگر وہ ہمیں بتوں کے سامنے سجدہ کے لیے کہتا ہے۔

O preacher, don't frown upon the Brahmin's quest —

If from us a bow before idols he requests.

2
خدای ما که خود صورتگری کرد
بتی را سجده ئی از قدسیان خواست

ہمارے خدا نے خود (آدم کی ) صورت بنائی —

اور پھر فرشتوں کو اس بت کو سجدہ کرنے کے لیے کہا. (اقبال کے یہ الفاظ پایہ ادب سے گرے ہوئے ہیں، پروفیسر یوسف سلیم چشتی)۔

Our God Himself fashioned Adam's form with care —

And then asked the angels to bow in reverence there.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور