رباعی شمارهٔ 142
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے
From my restless soul, I’ve unleashed a blaze
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
اردو ترجمہ: مخدوم حسان
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1ز جان بیقرار آتش گشادم
11
ز جان بیقرار آتش گشادم
دلی در سینهٔ مشرق نهادم
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے —
میں نے مشرق کے سینے میں نیا دل رکھ دیا ہے۔
From my restless soul, I’ve unleashed a blaze —
I’ve placed a new heart in the East’s embrace.
22
گل او شعله زار از نالهٔ من
چو برق اندر نهاد او فتادم
سرزمینِ مشرق کی خاک، میرے نالے سے شعلہ زار بن گئی ہے —
میں اس کے ضمیر پر بجلی کی مانند گرا ہوں۔
The soil of the East, aflame with my lament's spark —
Upon its conscience, I’ve struck like a lightning arc.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

