رباعی شمارهٔ 124

میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے

I take pride in myself, a beggar without need

اس کلام کو اپنی آواز دیں

اپنی ریکارڈنگ زندہ رود کے قارئین تک پہنچائیں۔

آڈیو شامل کریں
Toggle stanza 1
بخود نازم گدای بی نیازم
1
بخود نازم گدای بی نیازم
تپم ، سوزم ، گدازم، نی نوازم

میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —

تڑپنا، جلنا، گداز ہونا، نے نوازی کرنا (یہ میرا کام ہے)۔

I take pride in myself, a beggar without need —

I tremble, I burn, I melt, and on the reed I play indeed.

2
ترا از نغمه در آتش نشاندم
سکندر فطرتم ، آئینه سازم

میں اپنے (آتشیں ) نغموں سے تجھے آگ میں ڈال دیتا ہوں —

پھر تجھے آئینے میں تبدیل کرتا ہوں کیونکہ میں سکندر فطرت ہوں۔

With my fiery tunes, I set you ablaze —

Alexander in nature, transforming hearts to mirrors in my ways.

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…