رباعی شمارهٔ 129

نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر

Like the narcissus, do not pass the garden without gaze

اس کلام کو اپنی آواز دیں

اپنی ریکارڈنگ زندہ رود کے قارئین تک پہنچائیں۔

آڈیو شامل کریں
Toggle stanza 1
چو نرگس این چمن نادیده مگذر
1
چو نرگس این چمن نادیده مگذر
چو بو در غنچهٔ پیچیده مگذر

نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر —

اس خوشبو کی مانند نہ ہو جو غنچہء پیچیدہ ہی میں رہ جاتی ہے۔

Like the narcissus, do not pass the garden without gaze —

Be not like fragrance, hidden in the bud’s embrace.

2
ترا حق دیدهٔ روشنتری داد
خرد بیدار و دل خوابیده مگذر

اللہ تعالے نے تمہیں ان سے روشن تر آنکھ دی ہے —

تو دنیا میں بیدار عقل اور خوابیدہ دل کے ساتھ زندگی بسر نہ کر۔

God has bestowed upon you a brighter sight —

Do not dwell with an awakened mind and a heart in night.

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…