رباعی شمارهٔ 132

زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ

Consider the earth as the sky's confidant

اس کلام کو اپنی آواز دیں

اپنی ریکارڈنگ زندہ رود کے قارئین تک پہنچائیں۔

آڈیو شامل کریں
Toggle stanza 1
زمین را رازدان آسمان گیر
1
زمین را رازدان آسمان گیر
مکان را شرح رمز لامکان گیر

زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ —

مکاں کو لا مکاں کی شرح خیال کر۔

Consider the earth as the sky's confidant—

Imagine the finite as an explanation of the infinite.

2
پرد هر ذره سوی منزل دوست
نشان راه از ریگ روان گیر

ہر ذرّہ، دوست کی منزل کی جانب اڑتا جا رہا ہے —

تو اڑتی ہوئی ریت سے راستے کا نشان پوچھ۔

Each particle moves toward the beloved's abode—

So ask the drifting sands for the path's sign.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…