صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. اوزان
  2. »مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
  3. »علامہ اقبال / زبور عجم

وزن کے تحت کتاب

وزنِ مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم) میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف وزنِ مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔

24 نظمیں

نظمیں

وزنِ مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم) میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

  1. زندہ رود
  2. »اوزان
  3. »مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
  4. »علامہ اقبال / زبور عجم

دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)

علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ دوم (غزلیات) » دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 9–نوای من از آن پر سوز و بیباک و غم انگیزست

میری فریاد سوزِ غم سے بھری ہوئی ، بے خوف اور غم اُبھارنے والی ہے ۔ کیونکہ میرے حسن و خاشاک میں چنگاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے ۔ (اس تیز ہوا سے آگ بھڑک اٹھے گی اور مجھے ہر آلائش سے پاک کر دے گی) ۔

A flame is in my minstrelsy, a fearlessness, a tragedy; a spark is smouldering in my corn, and sprightly blows the breath of morn.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 9

اردوEn
8 اشعار

غزل شمارهٔ 22–درین محفل که کار او گذشت از باده و ساقی

اس بزم ِ جہاں میں ساقی رہے اور نہ ہی میکش اس کا کام شراب و ساقی سے گزر گیا ہے ۔ ایسا دوست اب کہاں ہے کہ میں بچی ہوئی شراب اس کے جام میں انڈیل دوں ۔ مجھے تو کوئی اپنے اسلاف کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا ۔

The night grows late, the route is up, no need for saki now or cup; pass me Thy goblet, friend of mine, I’ll pour thee the remaining wine.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 22

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 24–از آن آبی که در من لاله کارد ساتگینی ده

اے خدا مجھے اس پانی (شرابِ عشق) سے صراحی یا بڑا پیالہ عطا کردے جو میرے سینے میں لالہ کے پھول کھلا دے ۔ یعنی وہ شراب عشق جو میرے دل میں امنگوں کو بیدار کر دے ۔ اے ساقی دوراں میرے اس مٹھی بھر جسم کو بہار کی ہوا کے سپرد کر دے تاکہ میری ذات سے دوسروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔

The juice that maketh tulips spring within the heart – a bumper bring, Saki! And let the April gust scatter at will my body’s dust.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 24

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 25–ز هر نقشی که دل از دیده گیرد پاک می‌آیم

میں ہر اس برے نقش سے پاک ہو کر آیا ہوں جو دل پر آنکھوں کے ذریعے ابھرتا ہے ۔ میں پاکیزہ فطرت رکھتا ہوں اور تیرے پاس ہر فکر اور خیال سے آزاد ہو کر آیا ہوں یعنی میرا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے ۔

Of every image that the heart takes from the eye – I have no part; perception weigheth not with me, I beg for pure reality.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 25

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 26–دل بی قید من با نور ایمان کافری کرده

میرے بے قابو دل نے (جس کا ایمان پختہ نہیں تھا) نورِ ایمان کے ساتھ ارتکاب کفر کیا ہے ۔ اسی وجہ سے میری حالت یہ ہے کہ میں سجدہ ریز تو خدا کے حضور ہوں لیکن غلامی بتوں کی کر رہا ہوں ۔ میرا دل خدا پر ایمان لانے کے باوجود دنیا کی آلائشوں سے پاک نہیں ہے ۔

Against the light, an infidel, my heart, unfettered, doth rebel; it bows before God’s sanctuary and idols serves, indifferently.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 26

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 27–ز شاعر ناله مستانه در محشر چه می‌خواهی

اے خدا! تو حشر کے روز مجھ سے نالہَ مستانہ کی خواہش کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ اس دن تو ساری بزم ہی تیرے ہنگامے سے بھری ہو گی ۔ پھر تو مجھ سے یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس ہنگامے میں اپنی شاعری کے ذریعے اور تیزی پیدا کروں ۔

Why in the concourse dost Thou seek the poet’s wild, ecstatic shriek, or lookest for another’s riot, whose heart is troubled and unquiet?

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 27

اردوEn
3 اشعار

غزل شمارهٔ 28–نه در اندیشهٔ من کار زار کفر و ایمانی

میری حالت یہ ہے کہ نہ تو میرے اندر کفر اور ایمان کی جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی اپنی جان جنت کے باغ کی آرزو میں غموں کے حوالے کرتا ہوں ۔

Faith and infidelity fight not for the mind of me; no delights of Paradise do my stricken soul entice.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 28

اردوEn
2 اشعار

غزل شمارهٔ 34–برون زین گنبد در بسته پیدا کرده ام راهی

میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔

Beyond heaven’s shuttered dome I have found a way to come where swifter than thought may fly the breath of a morning sigh.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 34

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 35–گنه‌کار غیورم مزد بی‌خدمت نمی‌گیرم

میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔

A sinner proud am I; no need I take, except I work for it; I rage, because men say He writ predestinate my wilful deed.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 35

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 36–جهان کورست و از آئینهٔ دل غافل افتاد است

یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔

The world had lost its sight and the glass of the heart forsook, but an eye now sees the light that into the heart can look.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 36

اردوEn
8 اشعار

غزل شمارهٔ 37–درین میخانه ای ساقی ندارم محرمی دیگر

اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا؛ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔

None other in this tavern is, Saki, to share my mysteries; am I the first (O who can tell) conceived in heaven, on earth to dwell?

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 37

اردوEn
3 اشعار

غزل شمارهٔ 37–نیابی در جهان یاری که داند دلنوازی را

تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔

No friend in the world entire thou wilt find sincere in solicitude go, lose thyself in thy self, and mind the honour of loverhood.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 37

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 39–اگر نظاره از خود رفتگی آرد حجاب اولی

اگر نظارۂ جمال سے خود رفتگی پیدا ہو، تو حجاب ہی بہتر ہے ؛ مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔

If a sight causes loss of self, it is better hidden from view: I do not accept the deal, Your price is too high.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 39

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 39–چو خورشید سحر پیدا نگاهی می توان کردن

صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔

Vision can be won as of morning sun, making this dark clay radiant as day.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 39

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 40–کشیدی باده ها در صحبت بیگانه پی در پی

تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔

Too oft was thy light with strangers to take wine, to suffer others’ light within the bowl to shine.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 40

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 41–بده آندل که مستی های او از بادهٔ خویش است

اے خدا مجھے ایسا دل عطا کر دے کہ جس کی مستی اس کی اپنی ہی شراب ہو ۔ مجھ سے وہ دل واپس لے لے کہ جو مدہوش بے خبر اور اپنی بجائے غیروں کے بارے میں سوچتا ہو ۔

Give me the heart whose rapture fine flames from a draught of its own wine, and take the heart that, self-effaced, by alien fancy is embraced.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 41

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 45–فروغ خاکیان از نوریان افزون شود روزی

ایک دن ایسا آئے گا کہ خاک کے بنے ہوئے آدمیوں کی روشنی فرشتوں سے بڑھ جائے گی اور یہ زمین ہماری قسمت کے ستارے سے آسمان بن جائے گی ۔ انسان دنیاوی اور روحانی ترقی میں فرشتوں سے آگے نکل جائے گا ۔ )

Brighter shall shine men’s clay than angels’ light, one day; earth through our Destiny turn to a starry sky.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 45

اردوEn
4 اشعار

غزل شمارهٔ 51–بحرفی می توان گفتن تمنای جهانی را

اے میرے محبوب! (ویسے تو ) ایک جہان کی تمنا کو صرف ایک حرف میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لیکن میں تیرے حضور اپنے ذوق کی تسلی کے لیے اپنی داستانِ (عشق) طویل کر رہا ہوں ۔

A single word sufficeth well the passion of a world to tell: The joy to view thee night to me moved me to this long history.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 51

اردوEn
6 اشعار

غزل شمارهٔ 56–خودی را مردم‌آمیزی دلیل نارسایی‌ها

خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔

Ever to be about with men proveth the self doth not attain; to friends be thou a stranger, then, who art familiar with pain.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 56

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 60–در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را

اس صحرا (مسلمانوں ) میں شاید کسی قافلے کا گزر ہوا ہے بہت مدت بعد میں نے ساربانوں کے گیت سنے ہیں ۔ قوم کی اصلاح کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔

It chanced within the desert nigh a caravan was passing by, and presently there reached my ear the leader’s carol, loud and clear.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 60

اردوEn
2 اشعار

غزل شمارهٔ 61–ترا نادان امید غمگساریها ز افرنگ است

اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی امید اہلِ یورپ سے رکھتا ہے ۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لیے نہیں جلتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ (جس طرح شکاری اپنے شکار پر رحم نہیں کھاتا اسی طرح اہلِ یورپ بھی اپنی سنگدلی کی بدولت محکوم اقوام پر رحم نہیں کھاتے ۔ اس لیے اہل یورپ سے محکوم لوگوں کو رحم کی امید نہیں رکھنی چاہیے) ۔

Fool! Is there then such hope in thee of winning Europe’s sympathy? The falcon grieves not overmuch about the bird that’s in his clutch.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 61

اردوEn
7 اشعار

غزل شمارهٔ 63–جهان رنگ و بو پیدا تو میگوئی که راز است این

یہ جہان جو رنگ اور خوشبووَں سے بھرپور ہے ۔ لیکن تو اس جہان رنگ و بو کو ایک راز کہتا ہے ایک دفعہ خود کو اس کے تاروں پر لگا تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو مضراب ہے اور یہ جہان ایک ساز ہے ۔ تیرے مضراب کے بغیر سازِ جہاں میں نغمگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

A secret ’tis, ’tis evident (Thou sayst) this world of hue and scent: Go, strike thyself upon its wire – Thou art the plectrum, it the lyre.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 63

اردوEn
5 اشعار

غزل شمارهٔ 67–بهار آمد نگه می غلطد اندر آتش لاله

بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔

Spring is come; bright glances dart in the tulip’s bowl of fire; thousand thousand sighs upspire from each several ember’s heart.

علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 67

اردوEn
3 اشعار