صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
ہمارا یہ جہان جو صرف نقش ناتمام ہے —
کیسے اے آسمان پر گردش کرنے والے آفتاب —
اپنا راستہ اپنے تیشہ سے خود بنا —
دل ایسا مسافر ہے جو منزل کو پسند نہیں کرتا —
آ، حسن فطرت پر نظر ڈال —
میں نے آب و گل کے جہان کے اندر خلوت اختیار کی ہے —
خودی کے آغاز کی کسی کو خبر نہیں —
اے دل! حیات کا راز کلی سے سمجھ —
اللہ تعالیٰ کا نور باغ و صحرا میں پھیلا ہوا ہے —
نرگس کے باغ کی مٹی سے ایک غنچہ پیدا ہوا —
جہان جو اپنے اندر (کہیں پہنچنے کی) صلاحیت نہیں رکھتا تھا —
جسم و جان کا راز میرے دل کے اندر چھپا ہے —
گل رعنا بھی میری طرح مشکل میں ہے —
میں لالہ ء خودرو کا مزاج پہچانتا ہوں —
یہ دنیا بس آرزو کا ایک نغمہ زار ہے —
میرا دل آرزو سے بے قرار ہے —
ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے —
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو —
فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں —
میری خاک بدن سے کئی جہان پیدا ہوتے ہیں —
میں ہزاروں سال فطرت کےساتھ رہا ہوں —
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —
میرا اندرون افکار کی جلوہ گاہ ، یہ کیا؟ —
میں گدائے بے نیاز ہوں مجھے اپنے آپ پر ناز ہے —
اگر تو اپنی صلاحیتوں (احوال) سے آگاہی رکھتا ہے —
غم کیا، دل کی زندگی محض سانس سے نہیں —
اے دل ! جب تک تو میرے پہلو میں ہے —
میری طرف سے صوفیان با صفا سے کہو —
نرگس کی مانند اس چمن کو دیکھے بغیر نہ گزر —
میں بت کو اپنی صورت پر تراشتا ہوں —
نئی پیدا ہونے والی کلی نے شبنم سے کہا —
زمین کو آسمان کا رازدان سمجھ —
جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں —
زمین ہمارے مئے خانہ (الست) کے دروازے کی خاک ہے —
سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے —
آپ نے میرا سینہ چاک کر کے اندر سے دل لوٹ لیا —
میرے سامنے یہ جہان رنگ و بو باقی نہیں —
میں ساز کے سُروں (اسرارِ کائنات) سے تو اگاہ نہیں ہوں —
میں نے محفل میں نوائے مستانہ بلند کی —
عجم میرے نغموں سے جوان ہو گیا —
میرے نغمے سے عجم کے دل میں آگ بھڑک اٹھی ہے —
میں نے اپنی جانِ بے قرار سے آگ کا منہ کھول دیا ہے —
مجھے صبح کی تازہ ہوا کی مانند آزاد رو بنایا گیا ہے —
عقل ایک معمولی کپڑے کو اطلس بنا دیتی ہے —
میں شاخ آرزو کا پھل حاصل کرچکا ہوں —
میرا تخیل جو بہشت سے پھول چنتا ہے —
عجم (کا فکرِ خواب آور) ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں —
یہ نہ کہہ کہ دنیا کے کام میں پائداری نہیں —
تو فرنگی خداؤں سے تو بھاگتا ہے —
کب تک زندگی کا لباس تار تار رکھے گا؟ —