صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
بزمِ وجود ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر گواہ ہے —
باطن کی آگ سے میرا دل روشن ہے —
عشق باغوں کو باد بہاری عطا کرتا ہے —
عشق عقابوں کا مول گھٹا کر بے وقعت کردیتا ہے —
گل لالہ کے پتّوں میں عشق کی رنگ آمیزی ہے —
ہر شخص محبت کی دولت رکھنے والا نہیں —
میں اس باغ (دنیا ) میں خوشبو کی مانند پریشان ہوں —
یہ جہان، خاک کی ایک مٹھی ہے اور دل اس کا جوہر ہے —
بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا —
ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —
نوائے عشق کے لیے آدم ساز ہے (عشق کے نغمے انسان ہی کے قلب سے پھوٹتے ہیں) —
نہ مجھے انجام کی تلاش ہے نہ آغاز کی —
اے دل! توکب پروانے کی سی نادانی اختیار کیے رکھے گا؟ —
اپنی خاک کی مٹھی سے ایسا بدن پیدا کر —
خدا نے مٹی اور پانی سے کیا حسین پیکر تراشا —
قیامت کے دن برہمن نے اللہ تعالے کی جناب میں عرض کی —
صبح کے ستارے! تو تیزی سے گزر جاتا ہے —
دنیا کا یہ میخانہ ہنگاموں سے خالی ہوتا —
اے فخر سے پرواز کرتی نئی روح! —
زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —
سنا ہے عدم میں پروانہ کہتا تھا —
مسلمانو! (سنو) میرے دل میں ایک حرف ہے —
اے دل، میرے دل، تو اُس کی راہ پر چل پڑا ہے! —
تو ستاروں کے اندر تو راستہ بنا لیتا ہے —
صبح کے وقت چمن کی شاخ پر —
اگر تو مجھ سے زندگی کا سبق لینا چاہتا ہے —
چراغ کے نیچے گرے پڑے پروانے کی کہانی چھوڑ —
جو تجھے اپنا آپ بھلا دے —
تو میرے باغ کی سیر میں صرف اپنا نقصان ہی دیکھے گا —
ہونے اور نہ ہونے کے چکر سے نکل —
میں باغ کے پرندوں سے نا واقف ہوں —
خدایا! اس جہان میں کیا خوب ہنگامہ بپا ہے —
سکندر نے خضر سے کیا اچھی بات کہی —
کیقباد کا تخت ہو یا جمشید کا تاج سب خاک ہیں —
اگر خدا نے تیرے بدن میں —
زندگی کو ایک صورت پر قرار نہیں —
جب مجھے نغمے کا ذوق جلوت میں لاتا ہے —
کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے —
عقل کہتی ہے کہ خدا آنکھ میں نہیں سما سکتا —
گرجا، مسجد، مندر اور آتشکدہ —
میں نے اس چمن سے دل نہیں لگایا —
پرانے شرابی کو دوبارہ ہوش میں لے آئی —
اس کی شراب (محبت) نے میرے مٹی کے پیالے کو جام جم بنا دیا —
عقل آج اور کل کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے —
ہر ایک سر میں خرد موجود ہے —
تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا —
جبریل (علیہ السلام) کو میری طرف سے پیغام دو —
اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جائے —
عقل نے تیرے چہرے پر پردے بن رکھے ہیں —
تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے —